وفاقی حکومت نے طویل انتظار کے بعد 35 نئی ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کی منظوری دے دی ہے، جبکہ مزید 45 ادویات کی منظوری بھی جلد متوقع ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک بھر میں ادویات کی شدید قلت کو ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو علاج میں مشکلات کا سامنا تھا۔
ذرائع کے مطابق قیمتوں کے تعین میں تاخیر کے باعث کئی اہم ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھیں، جس کے نتیجے میں مریض مہنگی اور غیر معیاری اسمگل شدہ ادویات پر انحصار کرنے پر مجبور تھے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس مسئلے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا اور وزیر اعظم شہباز شریف کو اس کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی منظوری میں تاخیر نہ صرف سپلائی چین کو متاثر کر رہی تھی بلکہ مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی تھی۔
متاثرہ ادویات میں کینسر، دل کے امراض، ٹرانسپلانٹ، اور مختلف ویکسینز شامل ہیں۔ ان ادویات کی عدم دستیابی کے باعث خاص طور پر کینسر، ہیموفیلیا اور دیگر سنگین بیماریوں کے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ادویات کی دستیابی بہتر بنائے گا بلکہ غیر معیاری متبادل پر انحصار بھی کم کرے گا۔





































