مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معیشت اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے اعلیٰ سطح کے وفاقی و صوبائی حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں توانائی کی بچت کے حوالے سے جامع لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔

علاوہ ازیں علاقائی صورتحال کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کفایت شعاری، سادگی اور توانائی کی بچت کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

بعد ازاں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری پالیسی سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، اسی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر حالات اسی طرح خراب رہے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے ایمبولینسز اور عوامی بسیں مستثنیٰ ہوں گی، اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جائیں گی۔ کابینہ کے ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین دو ماہ کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔

گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ تمام محکموں کے دیگر اخراجات میں 20 فیصد کمی اور اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔

سرکاری افسران، مشیران، وفاقی و صوبائی وزرا اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ٹیلی کانفرنس اور آن لائن اجلاس کو ترجیح دی جائے گی، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر پابندی ہوگی، اور سیمینار و کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد ہوں گے۔

توانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری و نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کے علاوہ 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔ دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے جبکہ ایک اضافی چھٹی ہوگی، تاہم بینک، صنعت اور زراعت پر یہ اطلاق نہیں ہوگا۔

رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز ہوگا۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی بندرگاہ ٹرمینلز پر سٹوریج چارجز میں 25 تا 50 فیصد کمی

 کراچی بندرگاہ ٹرمینلز پر سٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک کمی کا اعلان

Read More

سولر صارفین کے لیے فیس اور لائسنس شرط ختم کرنے کا معاملہ، نیپرا سے نظرثانی کی درخواست

وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے سولر صارفین کے لیے فیس کے خاتمے اور 25 کلوواٹ

Read More

TECHNOLOGY

لیپ ٹاپ کی عمر بڑھانے کے 10 سمارٹ طریقے

ایک ایسے وقت میں جب لپ ٹاپ کام سے لے کر تفریح تک ہماری ڈیجیٹل

Read More

ایپل کا بڑا فیصلہ، آئی فون 18 مرحلہ وار لانچ ہوگا

ایپل اپنے آنے والے اسمارٹ فون ‘آئی فون 18’ کی لانچنگ کو 2 مختلف مراحل

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.