ایپل اپنے آنے والے اسمارٹ فون ‘آئی فون 18’ کی لانچنگ کو 2 مختلف مراحل میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایپل اپنی سالانہ روایت کے برعکس آئی فون 18 کے پرو ماڈلز 2026 کے آخر میں متعارف کروائے گا، جبکہ اس کا اسٹینڈرڈ ماڈل چند ماہ کی تاخیر کے بعد 2027 کے آغاز میں مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے۔
اس غیر معمولی تاخیر کی بڑی وجہ سپلائی چین میں درپیش مشکلات اور پرزہ جات، خصوصاً میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بتائی جا رہی ہیں۔ ایپل پیداواری لاگت کو کنٹرول کرنے اور اسٹاک کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اس بار مرحلہ وار لانچنگ کا سہارا لے رہا ہے۔
آئی فون 18 کے حوالے سے سب سے اہم پیش رفت اس کی 12 جی بی ریم ہے، جو کہ عام طور پر صرف پرو ماڈلز تک محدود ہوتی تھی، لیکن اب یہ بنیادی ماڈل میں بھی دستیاب ہوگی۔
اس کے علاوہ اس میں جدید ترین اے20 پروسیسر استعمال کیا جائے گا جو 2 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا، جس کا مقصد بیٹری پر بوجھ ڈالے بغیر فون کی رفتار کو کئی گنا بڑھانا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریم میں اس بڑے اضافے کی بنیادی وجہ ‘ایپل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے مطالبات ہیں۔ جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس فیچرز اور سری کے بہتر ورژن کو چلانے کے لیے زیادہ کمپیوٹیشنل پاور کی ضرورت ہے، جو اب آئی فون 18 کے ذریعے پوری کی جائے گی۔
ڈیزائن کے اعتبار سے فون میں معمولی تبدیلیاں متوقع ہیں، جس میں 6.3 انچ کی 120 ہرٹز اولیڈ اسکرین اور چھوٹا ‘ڈائنامک آئی لینڈ’ شامل ہوگا۔ سیلفی کیمرے کو بھی اپ گریڈ کر کے 24 میگا پکسل تک لے جانے کا امکان ہے۔
پیداواری لاگت بچانے کے لیے ‘کیمرہ کنٹرول بٹن’ میں کچھ پیچیدگیاں بھی کم کی جاسکتی ہیں۔






































