وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے سولر صارفین کے لیے فیس کے خاتمے اور 25 کلوواٹ تک کے نظاموں پر لائسنس کی شرط ختم کرنے کے معاملے پر قومی برقی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے نظرثانی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
وزارتِ توانائی کے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر اٹھایا گیا۔ پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم سولر صارفین پر فیس اور لائسنسنگ کی شرط نہ صرف غیر ضروری بوجھ ہے بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاور ڈویژن پہلے بھی نیپرا کو اس فیصلے کے ممکنہ منفی اثرات سے آگاہ کر چکا ہے اور درخواست کی تھی کہ اس پالیسی کو سابقہ ضوابط کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے تاکہ صارفین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
دستاویز کے مطابق پاور ڈویژن نے زور دیا ہے کہ چھوٹے سولر صارفین کے لیے درخواستوں کی منظوری کا اختیار دوبارہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو دیا جائے اور فیس کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے، جیسا کہ پہلے کے قواعد میں موجود تھا۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گھریلو سطح پر شمسی توانائی کے فروغ کو تیز کرنا، صارفین کے لیے مالی بوجھ کم کرنا اور ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو بڑھانا ہے۔



































