غیر ملکی یا دوہری شہریت ظاہر نہ کرنے والے سول سرونٹس کو ایک ہفتے کی مہلت

حکومت نے اپنی یا زیرکفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت ظاہر نہ کرنے والے سرکاری افسران کو ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن جمع کرانے کی ہدایت کردی، بصورت دیگر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور پولیس سربراہان کو جاری آفس میمورنڈم میں کہا ہے کہ سول سرونٹس (غیر ملکی اور دوہری شہریت کے انکشاف اور ممانعت) رولز 2026 کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی شہریت سے متعلق معلومات ظاہر کرنا لازمی ہے۔

رولز کی شق 3(3) کے تحت تمام سول سرونٹس کو یکم جون کو سرکاری گزٹ میں قواعد کی اشاعت کے 90 روز کے اندر اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت ظاہر کرنا تھی، اس مدت کی آخری تاریخ یکم ستمبر تھی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 17 جولائی کو بھی متعلقہ محکموں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اور زیرکفالت افراد کے شہریت اسٹیٹس، غیر ملکی سفری دستاویزات رکھنے اور کسی غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق معلومات مقررہ فارمیٹ میں جمع کرائی جائیں۔

تازہ مراسلے کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (سابق ڈی ایم جی)، پولیس سروس آف پاکستان، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے متعدد افسران نے تاحال اپنی غیر ملکی شہریت سے متعلق ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی۔

مجاز اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ جو افسران ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 17 جولائی کو بھی متعلقہ محکموں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ مقررہ مدت کے اندر اپنے اور زیرکفالت افراد کے شہریت اسٹیٹس، غیر ملکی سفری دستاویزات رکھنے اور کسی غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق معلومات مقررہ فارمیٹ میں جمع کرائی جائیں۔

تازہ مراسلے کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (سابق ڈی ایم جی)، پولیس سروس آف پاکستان، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے متعدد افسران نے تاحال اپنی غیر ملکی شہریت سے متعلق ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی۔

مجاز اتھارٹی نے ہدایت کی ہے کہ جو افسران ایک ہفتے کے اندر مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

رولز کی شق 3(4) کے مطابق ڈیکلریشن جمع نہ کرانا یا غلط ڈیکلریشن دینا مس کنڈکٹ تصور ہوگا۔

2026 کے قواعد کے تحت ہر سول سرونٹ کو تقرری کے وقت اپنے کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ آیا وہ خود یا اس کا کوئی زیرکفالت فرد غیر ملکی شہری ہے یا اس کے پاس کسی دوسرے ملک کا سفری دستاویز موجود ہے۔

ایسی معلومات فراہم نہ کرنے یا غلط ڈیکلریشن دینے کی صورت میں تقرری ابتدا ہی سے کالعدم قرار دی جاسکتی ہے اور ملازمت کسی بھی وقت ختم کی جاسکتی ہے۔

سرکاری ملازمین کو سالانہ بنیادوں پر بھی اپنی اور اپنے زیرکفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کی حیثیت ظاہر کرنا ہوگی۔

اگر کوئی ملازم یا اس کا زیرکفالت فرد غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز حاصل کرچکا ہو یا اس کے حصول کی کوشش کررہا ہو تو اس کی بھی اطلاع دینا لازم ہوگا۔

قواعد کے تحت پیشگی منظوری کے بغیر غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز کے لیے درخواست دینا عمومی طور پر ممنوع ہے۔

ایسے ملک کی شہریت یا سفری دستاویز کے لیے منظوری بھی نہیں دی جاسکتی جہاں متعلقہ افسر سفارتی تعیناتی پر خدمات انجام دے رہا ہو یا دے چکا ہو۔

غیر ملکی شہری سے شادی کے معاملے میں سول سرونٹس پر گورنمنٹ سرونٹس (میرج ود فارن نیشنلز) رولز 1962 کا اطلاق برقرار رہے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچ، شہر بھر میں مختلف حادثات میں دو افراد جاں بحق، ایک زخمی

شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات اور فائرنگ کے واقعات میں دو

Read More

کراچی: قائد آباد میں کوسٹر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 2 نوجوان جاں بحق

کراچی کے علاقے قائد آباد میں غوثیہ ہوٹل کے قریب ٹریفک حادثے میں موٹرسائیکل سوار

Read More

TECHNOLOGY

ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی گئی امریکی اے آئی ٹیکنالوجی ’پیلینٹیر ماون‘ کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سافٹ ویئر کمپنی ’پلانٹیر ٹیکنالوجیز‘ کی تعریف کے

Read More

میٹا نے اپنے انجنیئرز نئی اے آئی ٹیم میں منتقل کردیے، ملازمین کی برطرفی کا امکان

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.