امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے کا امکان ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے شروع ہونے کی امید ہے، اور ممکنہ طور پر یہ اہم بیٹھک سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ پچھلے دو دنوں سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ بھی روک دیا ہے، اور دنیا میں امن قائم کرنے والے ثالث ممالک اس لڑائی کو مستقل ختم کرانے کے لیے بہت زیادہ متحرک ہو گئے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق بدھ کے روز پاکستان، قطر، مصر اور سعودی عرب کے بڑے حکام نے امریکی اور ایرانی حکام سے فون پر رابطے کیے ہیں تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے اور دونوں ملکوں کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان بات چیت کی تاریخ طے کی جا سکے۔

اس پوری صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران پر بالکل صاف کر دیا ہے کہ پرانی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے خود ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی، اور ہم نے ایران کی اس درخواست پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

دوسری طرف غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کے سامنے ایک سخت شرط رکھی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے سمندری راستے میں جہازوں پر حملے بند کرنے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس نہ لینے کا اعلان سب کے سامنے عوامی سطح پر کرے، اور ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ایسا عوامی اعلان نہ کیا تو اس کے نتائج بہت برے ہوں گے۔

تاہم، ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سراسر مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا کے سامنے واضح کیا کہ ”ہم نے امریکا سے کسی قسم کے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، البتہ ہم نے قطر کے ثالثوں کا دورہِ ایران قبول کیا تھا جو امن کے لیے آئے تھے۔“

ایرانی ترجمان نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار بھی کیا کہ اگر امریکا نے پرانی مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق یا وعدے کو توڑا، تو ایران بھی اسی طرح کا برابر اور منہ توڑ جواب دے گا۔

اس دوران پاکستان نے بھی خطے میں امن قائم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کر دی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کیا اور علاقے میں جاری حالیہ لڑائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایرانی صدر سے کہا کہ دونوں فریق تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے امن کے لیے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچے۔

وزیر اعظم نے زور دیا کہ پرانی مفاہمتی یادداشت خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے اور پاکستان امن بحال کرنے کے لیے اپنا ایماندارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کیا جو کچھ دن پہلے جاں بحق ہونے والے ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لیے آئی تھی، اور انہوں نے امن کے لیے پاکستان کے تعميراتی کردار کی تعریف کی۔

اسی طرح اقوامِ متحدہ یعنی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی لڑائی اور کشیدگی کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہے، اس لیے تشدد اور بے امنی کا یہ سلسلہ اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ایٹمی معاملے سمیت تمام پرانے اور الجھے ہوئے مسائل کا حل صرف اور صرف سفارت کاری اور آپس کی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

عاصم افتخار نے دنیا پر زور دیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جو بھی وعدے کیے گئے تھے، ان پر عمل کرنا خطے کی خوشحالی کے لیے بہت ضروری ہے، اور پاکستان ایک حتمی اور مکمل امن معاہدے کے حصول کے لیے اپنی کوششیں برابر جاری رکھے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

اسلحہ ساتھ رکھنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ اہم خبر آگئی

سندھ حکومت نے کمپیوٹرائزڈ لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والے شہریوں کے لیے اہم فیصلہ کر

Read More

کراچی، پولیو مہم کی فول پروف سیکیورٹی کیلیے 7 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات

شہر قائد میں 2 تا 8 فروری 2026 جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم کے

Read More

TECHNOLOGY

بھارت کی اے آئی سمٹ مذاق بن گئی؛ بل گیٹس سمیت کئی نامور شخصیات کا شرکت سے انکار

بھارت میں جاری پانچ روزہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ اس وقت شدید تنقید کی

Read More

ملک بھر کی جامعات میں اے آئی کورس لازمی قرار

اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی تمام سرکاری و

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.