لاہور میں تین روز تک جاری رہنے والا بسنت میلہ صبح ہوتے ہی اختتام پذیر ہو گیا، جس کے بعد شہر میں معمولاتِ زندگی بحال ہو گئے ہیں اور دفاتر، اسکول اور کالج دوبارہ کھل گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں آنے والے طلبہ اور طالبات کے ذہنوں میں اب بھی بسنت کی رنگین یادیں تازہ ہیں، جہاں تین دن تک شہر بھر میں پتنگ بازی، موسیقی اور میلوں کا سماں رہا۔
ذرائع کے مطابق بسنت کے دوران لاہور میں مجموعی طور پر چار سے چھ ارب روپے تک کا کاروبار ہوا۔ اس میں پتنگ اور ڈور کی خریداری، کھانے پینے کی اشیا اور سفر شامل تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت سے دو ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا۔ باربی کیو پارٹیوں کے باعث پولٹری انڈسٹری کو نمایاں فائدہ پہنچا، جبکہ فاسٹ فوڈ اور مٹھائی کی فروخت سے بھی کروڑوں روپے کی آمدن ہوئی۔
دیگر شہروں سے بڑی تعداد میں شہریوں کی لاہور آمد کے باعث ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی خاصی سرگرمی دیکھی گئی۔
بسنت کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے بیٹے شاہریز خان نے بھی اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ پتنگ اڑا کر بسنت منائی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ امین الاسلام نے بھی لاہور میں بسنت کی تقریبات میں شرکت کی اور پتنگ بازی کی۔ جس پر بھارت میں اپنی ہی حکومت پر تنقید کی گئی۔






































