خارگ پر قبضے کا منصوبہ، ایرانی جزیرہ امریکی فوجیوں کے لیے جہنم کا گڑھا کیسے بن سکتا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے اہم تیل مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی فوج اس جزیرے پر نسبتاً تیزی سے کنٹرول حاصل کر سکتی ہے، لیکن اس اقدام سے امریکی فوجیوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے اور جنگ کے جلد خاتمے کے بجائے اس میں مزید شدت اور طوالت آ سکتی ہے۔

خارگ جزیرہ ایران کے شمالی خلیجی علاقے میں ایرانی ساحل سے تقریباً 26 کلومیٹر دور واقع ہے، جبکہ یہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ جزیرے کے اطراف گہرے پانی موجود ہیں، جس کے باعث بڑے آئل ٹینکر یہاں آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ ایران کے ساحلی علاقوں کے کم گہرے پانیوں میں یہ ممکن نہیں۔

28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات خارگ جزیرے کے ذریعے کی جاتی تھیں۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس جزیرے پر قبضہ کر لیتا ہے تو ایران کی توانائی تجارت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے اور تہران کی معیشت پر زبردست دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ایران اوپیک میں تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔

امریکی افواج نے مارچ اور اپریل کے دوران خارگ جزیرے پر حملے کیے تھے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کارروائیوں میں تمام فوجی اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس وقت امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ انتظامیہ جزیرے پر زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔

بعد ازاں خارگ جزیرے پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا گیا، تاہم امریکا نے جزیرے کے قریب موجود تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایرانی بندرگاہوں کے گرد اپنی ناکہ بندی برقرار رکھی۔

جمعرات کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر خارگ جزیرے پر قبضے کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی واضح منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔

ٹرمپ نے کہا، ’’میری ترجیح ہمیشہ یہی رہی ہے کہ خرگ جزیرے پر قبضہ کیا جائے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ امریکا اس کے لیے تیار ہے یا نہیں۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ جزیرے پر قبضہ ایران کی معیشت پر فوری اثر نہیں ڈالے گا کیونکہ جنگ کے باعث ایرانی تیل برآمدات پہلے ہی نمایاں حد تک متاثر ہو چکی ہیں۔

ڈرون حملوں کا خطرہ

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوج نسبتاً کم وقت میں خرگ جزیرے کا کنٹرول حاصل کر سکتی ہے، لیکن اس سے جنگ کا فوری اور فیصلہ کن خاتمہ یقینی نہیں ہوگا۔

فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے ماہرین ریان بروبسٹ اور کیمرون میک ملن نے مارچ میں اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ خرگ جزیرے پر قبضہ اور اس کا انتظام سنبھالنا جنگ کو مزید پھیلانے اور طول دینے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اس سے کسی فیصلہ کن کامیابی کے امکانات محدود ہیں۔

ان کے مطابق امریکی فوجیوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں کیمرے سے لیس فرسٹ پرسن ویو ڈرونز بھی شامل ہیں، جو اس وقت یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر امریکی فوجیوں پر کامیاب حملے ہوئے تو ایرانی حکومت ان حملوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر جاری کر سکتی ہے اور انہیں پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

جزیرے پر قبضے کے لیے اضافی مدد ضروری

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے مارچ میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ خرگ جزیرے پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 800 سے ایک ہزار فوجی کافی ہوں گے، تاہم انہیں مسلسل لاجسٹک اور سپلائی سپورٹ درکار ہوگی، جس کے تحفظ کے لیے بھی اضافی فوجی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔

جنرل ووٹل کے مطابق جزیرے پر تعینات فوجی انتہائی غیر محفوظ ہوں گے اور انہیں یقین نہیں کہ خرگ جزیرے پر قبضہ کسی نمایاں عسکری فائدے کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی اور عجیب نوعیت کا اقدام ہوگا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسا کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

بیرون ملک سے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد پر نئی کسٹمز ویلیوز مقرر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے بیرون ملک سے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ

Read More

پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوکر بیرون ملک استعمال اور فروخت ہونے کا انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہوکر بیرون ملک استعمال ہونے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.