آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی امریکا کو نئی پیشکش

ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، تاہم اس فارمولے کے تحت جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اس حوالے سے منقسم ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکا کو کیا رعایتیں دی جائیں۔

ایرانی تجویز کے مطابق اگر اس وقت جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے سے صدر ٹرمپ کا وہ دباؤ کم ہو جائے گا جو وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کے روز اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔

امریکی حکام کے مطابق اس میٹنگ میں مذاکرات میں جاری جمود اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر بات ہوگی۔

اتوار کے روز ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بحری ناکہ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس نے ایران کی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس تیل کی بھاری مقدار سسٹم میں موجود ہو اور اسے جہازوں میں نہ ڈالا جا سکے تو وہ لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایسا ہونے سے پہلے صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا بحران اس وقت مزید گہرا ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آئی۔

وائٹ ہاؤس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں عراقچی سے ملیں گے، لیکن ایران کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ ملنے پر صدر ٹرمپ نے یہ دورہ منسوخ کر دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انہیں 18 گھنٹے طویل فلائٹ پر بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم فون پر بھی بات کر سکتے ہیں اور ایرانی اگر چاہیں تو ہمیں کال کر سکتے ہیں، ہم صرف وہاں بیٹھنے کے لیے سفر نہیں کریں گے۔

پردے کے پیچھے ہونے والی پیش رفت کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان، مصر، ترکی اور قطر کے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ ایرانی قیادت میں امریکی مطالبات پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کو دی گئی نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کو حل کیا جائے اور جنگ بندی میں طویل المدتی توسیع یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے۔ جوہری مذاکرات اس کے بعد شروع ہوں گے جب ناکہ بندی ختم ہو جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکا پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، صدر واضح کر چکے ہیں کہ تمام پتے امریکا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ صرف وہی معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار نہ بنانے دے۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر پاکستانی حکام نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

پاکستان نے ایران جنگ کے اقتصادی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

پاکستان نے ایران میں جاری کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی توانائی کی مارکیٹس اور سپلائی

Read More

سانحہ گل پلازہ میں کے ایم سی کی کوئی غفلت نہیں، میونسپل کمشنر

کراچی(کورٹ رپورٹر) سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے ذمہ

Read More

TECHNOLOGY

انسانوں کی ضرورت ختم، کلاڈ اے آئی خود فیصلے کرنے لگا

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے مشینوں

Read More

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب، چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت میں غیر معمولی تیزی

مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمی طلب نے چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.