امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس حملہ کے بعد کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں فائرنگ مجھے ایران کے خلاف جنگ لڑنے اور جیتنے سے نہیں روک سکتی ہے، اگرچہ میرے خیال میں اس فائرنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’یہ واقعہ مجھے ایران میں جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتا، میرے خیال میں اس کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے، اگرچہ اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے، مشتبہ شخص کے پاس بہت سے ہتھیار تھے، سیکریٹ سروس نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی، مشتبہ شخص نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آیا، جہاں صدر ٹرمپ سمیت اعلیٰ امریکی قیادت موجود تھی۔ واقعے کے بعد صدر اور دیگر اہم شخصیات کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے تقریب کے مقام کے باہر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔
ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹوماس ایلن کے نام سے کی گئی ہے، جو کیلیفورنیا کا رہائشی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملزم کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے اور اسے سیکرٹ سروس نے قابو میں لے لیا۔
امریکی اٹارنی جینین پیرو کے مطابق ملزم پر ابتدائی طور پر اسلحہ استعمال کرنے اور اہلکار پر حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ مزید دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ نیشنل گارڈ کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔ تقریب میں موجود سینکڑوں افراد کو باہر نکال لیا گیا اور پروگرام کو منسوخ کر دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے سیکرٹ سروس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حملہ آور تقریب کے ہال تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور جلد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔


































