پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں، تاہم دوسری جانب جنگ بندی کے خاتمے کی قریب آتی ڈیڈ لائن اور بعض رکاوٹوں کے باعث مذاکرات کے انعقاد پر غیر یقینی صورتحال بھی برقرار ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر پاکستانی حکومتی عہدیدار نے بتایا ہے کہ پاکستان کو یقین ہے کہ وہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کر لے گا۔ عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ ایک یا 2 روز میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شریک ہو جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ بات چیت کا عمل آگے بڑھایا جا سکے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن بھی قریب آ رہی ہے۔
دوسری جانب رائٹرز کی ایک اور رپورٹ کے مطابق ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت پر ’مثبت غور‘ کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے رابطے میں کہا کہ جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیاں سفارتی عمل کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرانے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، کیونکہ ایران اسے مذاکرات میں شرکت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری 2 ہفتوں کی جنگ بندی اس ہفتے ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس تنازع نے نہ صرف ہزاروں جانیں لی ہیں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو ایک اہم سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، تاکہ ایسا معاہدہ حاصل کیا جا سکے جو جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکے اور اسے پابندیوں سے کچھ ریلیف فراہم کرے۔

واضح رہے کہ اگر ایران مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی، تاہم جنگ بندی کی ڈیڈ لائن اور باہمی تحفظات کے باعث مذاکرات کے حتمی انعقاد پر اب بھی غیر یقینی کے سائے موجود ہیں۔
جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے، باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محاصرے کے ذریعے مذاکراتی عمل کو دباؤ میں لا کر ایران کو ہتھیار ڈالن پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترامپ با اعمال محاصره و نقض آتشبس میخواهد تا به خیال خود این میز مذاکره را به میز تسلیم تبدیل کند یا جنگافروزی مجدد را موجّه سازد.
مذاکره زیر سایهٔ تهدید را نمیپذیریم و در دو هفتهٔ اخیر برای رو کردن کارتهای جدید در میدان نبرد آماده شدهایم.
اپنے سوشل میڈیا بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مذاکراتی میز کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتا ہے جہاں ایران پر دباؤ ڈال کر اسے یکطرفہ شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایران نے میدانِ جنگ میں اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات کو قبول کیا جائے گا جو یکطرفہ دباؤ پر مبنی ہوں۔
آبنائے ہرمز میں ٹریفک محدود، 12 گھنٹوں میں صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت
آبنائے ہرمز میں سمندری سرگرمی انتہائی محدود ہو گئی ہے اور گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی ترسیل کے اس اہم راستے پر غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس عرصے میں صرف ایک ٹینکر ’نیرو‘ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج فارس سے باہر نکلا ہے جبکہ 2 جہاز اندر داخل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹینکر برطانوی پابندیوں کی زد میں ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث سمندری ٹریفک میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی دوران ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز ’شجاع 2‘ امریکی اعلان کردہ ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز بندر عباس کے قریب شہید رجائی بندرگاہ سے روانہ ہوا اور بھارت کی بندرگاہ کاندلہ کی طرف جا رہا ہے۔
اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم میری ٹائم ٹریکنگ سروس ’میرین ٹریفک‘ کے ڈیٹا کے مطابق جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود ہے اور بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں محدود سمندری ٹریفک اور کشیدہ صورتحال نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جو معاہدہ کررہے ہیں وہ ماضی کے معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ ہم امریکا کو کسی ایسے معاہدے میں نہیں دھکیلیں گے جو کمزور ہو یا نامکمل ہو۔ اگر ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ باراک اوباما اور جوبائیڈن کی جانب سے تحریر کیا جانے والا معاہدہ ملکی سلامتی کے حوالے سے اب تک کے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔ یہ دراصل ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک یقینی راستہ تھا، جو ہمارے موجودہ معاہدے میں نہ ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اس معاہدے کے تحت مبینہ طور پر 1.7 ارب ڈالر بوئنگ 757 میں ایران بھیجے گئے، تاکہ ایرانی قیادت اسے اپنی مرضی سے خرچ کر سکے۔
ان کے مطابق واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے یہ رقم نکالی گئی، اور بینکاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ اس کے علاوہ ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر مزید بھی ادا کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے، جو اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
انہوں نے بعض امریکی میڈیا اداروں اور صحافیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ جان بوجھ کر ماضی کے معاہدے کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ امریکا کے لیے خطرناک اور شرمناک معاہدہ تھا۔

امریکی صدر نے کہاکہ اگر ٹرمپ کے دور میں کوئی نیا معاہدہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکا اور پوری دنیا کے لیے امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت ہوگا۔
ان کے مطابق یہ ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس پر دنیا فخر کرے گی، اس کے برعکس ماضی میں نااہل اور کمزور قیادت کی وجہ سے امریکا کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ وہ کسی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں، اور اصل مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ 47 سال سے جاری مسئلے کو درست طریقے سے حل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد بازی میں کوئی غلط معاہدہ نہیں کریں گے، اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مکمل طور پر امریکا کے مفاد میں ہوگا۔

انہوں نے بعض امریکی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اگر جھوٹی خبریں دیکھی جائیں تو ایسا تاثر ملتا ہے کہ امریکا جنگ ہار رہا ہے، تاہم ان کے مطابق زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مخالف فریق الجھن کا شکار ہے کیونکہ ان کی بحریہ متاثر ہوئی ہے، فضائی طاقت غیر فعال ہو چکی ہے، اور میزائل و فضائی دفاعی نظام کمزور ہو چکے ہیں۔ جبکہ سابق قیادت کا بڑا حصہ منظر سے ہٹ چکا ہے، جسے انہوں نے رجیم چینج قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران پر عائد پابندی یا ناکہ بندی برقرار ہے اور جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو ان کے مطابق تہران کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔





































