پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کسی نتیجے پر کیوں نہ پہنچ سکے؟

پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات 21 گھنٹے کی طویل اور تھکا دینے والی بحث کے بعد کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے خاتمے پر اسے ایران کے لیے بری خبر قرار دیا اور کہا کہ ان کی ٹیم اپنی آخری اور بہترین پیشکش سامنے رکھنے کے بعد اب واپس جا رہی ہے۔ جے ڈی وینس نے نجی گفتگو کی تمام تفصیلات بتانے سے تو معذرت کی، مگر انہوں نے واضح کیا کہ ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ایٹمی ہتھیاروں کا معاملہ تھا۔

جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کی جانب سے ایک پختہ اور واضح عہد سامنے آئے کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ اوزار جمع کرے گا جن سے ایٹمی صلاحیت تیزی سے حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے اہم ہدف ہے جسے ہم نے ان مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی۔

جے ڈی وینس نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ایران طویل مدت کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سے دور رہ پائے گا؟ اور پھر خود ہی جواب دیا کہ ہمیں فی الحال ایسا کوئی پختہ ارادہ نظر نہیں آیا۔

دوسری جانب ایرانی حکام اور ذرائع نے ان مذاکرات کی ناکامی کا تمام تر ملبہ امریکا کے غیر معقول مطالبات پر ڈالا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایرانی وفد نے 21 گھنٹے تک اپنے عوام کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کی، لیکن امریکی سائیڈ کی ہٹ دھرمی اور بے جا مطالبات نے پیش رفت کو روک دیا۔

ایران کے سابق نائب صدر عطا اللہ مہاجرانی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے خود مذاکرات کی تجویز دی اور ایران کی دس شرائط بھی مان لیں، لیکن وہ مذاکرات کی میز پر وہ سب کچھ چھیننا چاہتے تھے جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل نہیں کر سکے۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس موقع پر ایک متوازن موقف دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا نے کئی معاملات پر ایک دوسرے کو سمجھا ہے، لیکن دو سے تین اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات چالیس دن کی جنگ کے بعد عدم اعتماد اور شک و شبہ کے ماحول میں ہوئے، اس لیے یہ توقع رکھنا کہ ایک ہی ملاقات میں سب کچھ حل ہو جائے گا، درست نہیں تھا۔

ایران کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ وہ کسی جلد بازی میں نہیں ہے اور جب تک ایک معقول معاہدہ طے نہیں پاتا، آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی بھی متبادل پلان یعنی پلان بی کی موجودگی کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی فوجی طاقت پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے اور ان کے پاس میزائل سازی کی صلاحیتیں بہت کم رہ گئی ہیں، اس لیے ہمیں کسی دوسرے منصوبے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس صورتحال پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے اپنے عہد پر قائم رہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مثبت جذبے کے ساتھ خطے میں پائیدار امن کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات نے جہاں دونوں ملکوں کے درمیان موجود گہری خلیج کو واضح کیا ہے، وہیں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاکستان عالمی امن کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا آنے والے دنوں میں کوئی نیا رابطہ ممکن ہو پائے گا یا خطہ ایک بار پھر تناؤ کی لپیٹ میں رہے گا۔

Share On Social Media

KARACHI

28ویں آئینی ترمیم ایم کیو ایم پاکستان کے لیے سیاسی بقا کا معاملہ کیوں؟

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی قیادت کی جانب سے کی گئی حالیہ

Read More

کراچ، شہر بھر میں مختلف حادثات میں دو افراد جاں بحق، ایک زخمی

شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات اور فائرنگ کے واقعات میں دو

Read More

TECHNOLOGY

گوگل کروم میں خطرناک ’زیرو ڈے‘ وائرس سرگرم، فوری اپ ڈیٹ کی ہدایت

دنیا کے مقبول ترین ویب براؤزر ’گوگل کروم‘ کے ساڑھے تین ارب صارفین کے لیے

Read More

واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا اے آئی ٹول متعارف کرا دیا

انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نیا اے آئی ٹول متعارف

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.