گوگل ڈیپ مائنڈ اور آزاد فلم اسٹوڈیو ‘اے 24’ نے فلم سازی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر تحقیق کے لیے ایک باضابطہ معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد فلم سازوں اور تخلیقی ماہرین کی مدد کے لیے نئے طریقہ کار اور تکنیکیں تیار کرنا ہے۔ اس اقدام سے یہ بات بھی یقینی بنائی جائے گی کہ مستقبل میں بننے والے ڈیجیٹل ٹولز خود ان تخلیق کاروں کی ضرورت کے مطابق ڈیزائن کیے جائیں۔
گوگل کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہاسابیس کا کہنا ہے کہ فنکاروں کو بااختیار بنانے والے ٹولز تیار کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مل کر براہ راست کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اے 24’ جیسے معروف اسٹوڈیو اور فلم سازوں کے ساتھ شروع سے مل کر کام کرنے سے ہم ایسے اے آئی فیچرز بنا سکیں گے جو کہانی سنانے کے عمل کو زیادہ جاندار اور تخلیقی وژن کے مطابق بنائیں۔
آزاد فلم اسٹوڈیو ‘اے 24’ نے حالیہ برسوں میں کئی مشہور فلمیں پروڈیوس کی ہیں، جن میں ہارر فلم ‘بیک رومز’، تیموتھی شالامے کی ‘مارٹی سپریم’ اور آسکر ایوارڈ یافتہ ایڈونچر فلم ‘ایوری تھنگ ایوری ویئر آل ایٹ ونس’ شامل ہیں۔ اس نئے معاہدے کے تحت دونوں ادارے وقت کے ساتھ ساتھ متعدد تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں پر مل کر کام کریں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس شراکت داری کے تحت گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ نے آزاد فلم اسٹوڈیو میں 75 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ تاہم ڈیپ مائنڈ نے اس سرمایہ کاری کی مالیاتی مالیت پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی انٹلیکچوئل پراپرٹی یا ڈیٹا ٹریننگ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں فلم سازوں کا اپنے مواد پر مکمل تخلیقی کنٹرول برقرار رہے گا۔
اس معاہدے کے نتیجے میں فلم اسٹوڈیو ‘اے 24’ کو گوگل ڈیپ مائنڈ کی جدید ترین تحقیق، بنیادی ڈھانچے اور عالمی نیٹ ورک تک براہ راست رسائی حاصل ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ شراکت داری آنے والے وقتوں میں سنیما اور فلم سازی کے روایتی انداز کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔





































