سانحہ گل پلازہ: ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار، جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہوگئی

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ کے چوتھے روز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں نے ریسکیو کی رفتار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آپریشن تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سانحے میں اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 83 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

ریسکیو آپریشن اور متاثرین کے مطالبات

ریسکیو اہلکار جلی ہوئی عمارت کے بیشتر حصوں میں داخل ہوچکے ہیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے۔ تاہم لاپتا افراد کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ اہل خانہ نے ریسکیو ورکرز پر تعاون نہ کرنے اور صرف عمارت پر پانی مارنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

لاپتا دکاندار انس کے والد عمران کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار اندر جانے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ اہل خانہ نے خود اندر جانے کی کوشش کی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انس کی والدہ اور اہلیہ پہلے دن سے پلازہ کے باہر موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انس کو تلاش کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

تاجر برادری کا احتجاج اور الٹی میٹم

تاجر رہنما جمیل پراچہ نے ریسکیو آپریشن کی سست روی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک لاپتا افراد کو تلاش نہ کیا گیا تو تاجر خود عمارت میں داخل ہوں گے۔

صورتحال

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ آفس میں لاپتا افراد کی فہرست آویزاں کردی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق 29 لاپتا افراد کی موبائل لوکیشن گل پلازہ اور اطراف کے علاقوں میں آخری بار موصول ہوئی تھی۔ جاں بحق 18 افراد کی شناخت ہوچکی ہے، جبکہ باقی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کارروائی

سول اسپتال کراچی میں اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے نمونے لیے جاچکے ہیں جبکہ 48 خاندانوں نے اپنے نمونے جمع کرادیے ہیں۔

ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق نمونے سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری جامعہ کراچی بھجوائے گئے ہیں، جہاں آئندہ 3 روز تک کراس میچنگ کا عمل جاری رہے گا۔ ناقابل شناخت لاشیں ایدھی سردخانے منتقل کردی گئی ہیں۔

چھت سے گاڑیاں اتار لی گئیں

ریسکیو آپریشن کے دوران گل پلازہ کی چھت سے 7 گاڑیاں اتار لی گئیں، جن میں سے 2 گاڑیاں محفوظ حالت میں مالکان کے حوالے کردی گئیں۔ ایک تاجر عامر کے مطابق حیران کن طور پر ان کی دونوں گاڑیاں محفوظ رہیں، تاہم ان کی دکان پر کام کرنے والے 2 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

سانحہ کیسے پیش آیا؟ ہوشربا انکشافات

متاثرہ دکانداروں نے انکشاف کیا ہے کہ گل پلازہ میں کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، جن میں سے رات 10 بجے کے بعد صرف 2 دروازے کھلے رکھے جاتے تھے۔ سانحے کے وقت 24 دروازے بند تھے اور کوئی ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھا۔

آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، عمارت دھوئیں سے بھر چکی تھی اور اندھیرے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی۔ دھوئیں کے باعث کئی افراد بے ہوش ہوکر گر پڑے، جبکہ متعدد افراد کو دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا۔

تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس

گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے، جس میں واقعے سے متعلق جمع کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔

سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف درجنوں خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے بلکہ شہر میں حفاظتی انتظامات اور ایمرجنسی رسپانس پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں

Share On Social Media

KARACHI

سندھ طاس معاہدہ کیس میں پاکستان کی بڑی کامیابی، عالمی عدالت کا بھارت کو اہم حکم

عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم اپنے پن بجلی منصوبوں سے

Read More

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کرانے کا اعلان

سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان

Read More

TECHNOLOGY

پابندی شدہ مواد تک رسائی کے لیے امریکا کا نیا ’وی پی این‘ منصوبہ

امریکی محکمہ خارجہ ایک نئے آن لائن پورٹل پر کام کر رہا ہے جس کے

Read More

چاند پر قبضے کی دوڑ، چین کی ڈیڈ لائن کے بعد خلائی مقابلہ مزید تیز

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور ارب پتی کاروباری شخصیت جیف بیزوس کے درمیان

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.