سپریم کورٹ مکمل اے آئی سے بنی ہو تو کیا ہوگا؟ قانون کے اسکول میں دلچسپ تجربہ

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی ایک لاء یونیورسٹی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صلاحیتوں کو پرکھنے کے لیے ایک منفرد تجربہ کیا ہے، جس میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ کیا اے آئی سپریم کورٹ کے ججوں کی طرح قانونی دلائل کو سمجھ کر فیصلے کر سکتی ہے یا نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس تجربے کے لیے یونیورسٹی میں ایک فرضی عدالت سجائی گئی۔ اس تجربے کے لیے تین اے آئی ججز تیار کیے گئے تھے، جن میں ایک قدامت پسند قانونی سوچ، دوسرا عملی نقطہ نظر اور تیسرا ترقی پسند قانونی نظریات کی نمائندگی کر رہا تھا۔

ان مصنوعی ججز کو امریکی سپریم کورٹ کے ایک حقیقی مقدمے کی تفصیلات، قانونی دستاویزات اور متعلقہ ججز کے سابقہ فیصلوں کی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اے آئی ججوں نے مقدمے کا فیصلہ بالکل اسی انداز اور سوچ کے ساتھ سنایا جیسا کہ واقعی سپریم کورٹ نے سنایا تھا۔ فیصلے کی حد تک مصنوعی ذہانت نے انسانوں کی طرح ہی قانونی نقطہ نظر کا استعمال کیا۔

طلبہ نے فرضی عدالت میں اپنے قانونی دلائل پیش کیے اور اے آئی ججز نے ان سے سوالات بھی کیے۔ تاہم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ ڈین برائے مصنوعی ذہانت نکول ڈاؤننگ کے مطابق اے آئی ججز کا اندازِ گفتگو کافی حد تک مشینی تھا۔ وہ طلبہ سے سوالات تو کرتے تھے، لیکن حقیقی ججز کی طرح درمیان میں مداخلت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ان کے سوالات میں وہ فطری انداز نظر آیا جو حقیقی عدالتی کارروائی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

نکول ڈاؤننگ کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ معلوم کرنا نہیں تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں حقیقی ججز کی جگہ لے سکتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا تھا کہ آیا اے آئی بھی انسانی ججز کی طرح قانونی دلائل کا تجزیہ اور ان پر غور کرکے فیصلے کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت قانونی دلائل کا تجزیہ کرنے اور ممکنہ عدالتی سوالات کا اندازہ لگانے میں وکلا اور قانون کے طلبہ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

نکول ڈاؤننگ کے نزدیک اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت وکلا اور قانون کے طلبہ کے لیے عدالتی دلائل کی تیاری میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ پہلے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ججز ان کے دلائل کے دوران کس قسم کے سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے سے سامنے آنے والی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح سوچنے اور قانونی معاملات پر غور کرنے کی صلاحیت تو دکھا سکتی ہے، لیکن اس کا طرزِ عمل ابھی انسانوں جیسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انسانوں جیسا محسوس ہونے اور فطری انداز میں بات چیت کرنے کے درمیان اب بھی بہت بڑا فرق موجود ہے۔

یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قانونی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے اور کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے اے آئی ٹولز تیار کر رہی ہیں جو عدالتی فیصلوں کا تجزیہ کرنے اور مقدمات کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت قانونی معاملات میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم حقیقی عدالتی کارروائی میں انسانی ججز کے تجربے، فطری اندازِ گفتگو اور فیصلہ سازی کی مکمل نقل کرنا ابھی اس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

اوپن اے آئی کل اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈل ’جی پی ٹی 5.6‘ متعارف کرائے گی

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کل (بروزجمعرات) اپنا اب تک کا جدید

Read More

کیا کلاڈ انسان بن رہا ہے؟ اینتھروپک نے اے آئی کی ‘خفیہ سوچ’ ڈھونڈ نکالی

مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.