اسرائیلی عرب کون ہیں اور حکومت سازی میں انہیں ‘کنگ میکر’ کیوں کہا جارہا ہے؟

اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں اب تک سامنے آںے والے نتائج میں عرب جماعتوں کی ریکارڈ کامیابی سامنے آرہی ہے۔ ایک سوال جو تقریباً ہر ذہن میں منڈلا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل میں آباد یہ عرب آخر کون ہیں؟ ایک تاثر یہ بھی قائم ہے کہ اسرائیل میں آباد تمام عرب شہری دراصل مسلمان ہیں، جب کہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔

عرب اسرائیلی بنیادی طور پر ان فلسطینیوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے 1948ء میں اسرائیل کے قیام اور عرب-اسرائیل جنگ کے بعد نقل مکانی کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر رہنے کو ترجیح دی تھی۔ آج ان کے پاس اسرائیلی شہریت ہے، وہ اسرائیلی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور قومی انتخابات میں ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔

ان میں سے بہت سے لوگ اپنی شناخت کے لیے ’اسرائیل کے فلسطینی شہری‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس شناخت میں ان کی عرب زبان، ثقافت، فلسطینی تاریخ اور اسرائیل کی ریاستی شہریت، سب شامل ہیں۔ یہ اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً 21 فیصد ہیں، تاہم شہریت اور ووٹ کا حق رکھنے کے باوجود انہیں یہودی شہریوں کے مقابلے میں سماجی اور معاشی، دونوں سطح پر عدم مساوات کا سامنا رہتا ہے۔

عرب شناخت کی وجہ سے ان پارٹیوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ صرف مسلم آبادی کی نمائندہ ہیں تاہم اسرائیل میں آباد تمام عرب صرف مسلمان نہیں، نہ ہی ان کی سیاسی ترجیحات ایک جیسی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عرب جماعتوں کے ووٹرز اور رہنماؤں میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہیں۔

27 اکتوبر 2026 کے انتخابات میں عرب جماعتیں دو دھڑوں میں تقسیم ہو کر میدان میں اتری ہیں اور تاریخی ٹرن آؤٹ کی بدولت مجموعی طور پر ریکارڈ 15 سے 19 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہیں۔

اسرائیل میں عرب اقلیت کی نمائندہ کہلانے والی چار بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہ جماعتیں انتخابات میں مختلف اتحادوں کی صورت میں حصہ لیتی ہیں، جن میں ایک ’جوائنٹ لسٹ‘ نامی سیاسی اتحاد جب کہ دوسری ’رعام‘ نامی سیاسی جماعت ہے۔

انتخابات سے قبل ’جوائنٹ لسٹ‘ کے نام سے بننے والے اتحاد میں تین بڑی عرب جماعتیں شامل ہیں، جس کی قیادت یوسف جبارین کر رہے ہیں۔ اس بلاک میں ’حداش‘، ’تَعل‘ اور ’بلد‘ نامی پارٹیاں شامل ہیں۔ یہ اتحاد اسرائیل کے سیکولر، قوم پرست اور بائیں بازو کے عربوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

حداش بنیادی طور ترقی پسند پارٹی ہے جو 1977 سے قائم ہے۔ یہ اتحاد کی واحد جماعت ہے جس میں عربوں کے ساتھ ساتھ یہودی کمیونٹی کے بائیں بازو کے ارکان بھی شامل ہیں۔ یہ جماعت عرب-یہودی برابری اور مزدوروں کے حقوق پر زور دیتی ہے۔

تعل کے بانی اور سربراہ اسرائیل کے معروف ترین عرب رہنما احمد طیبی ہیں۔ یہ خالص سیکولر فلسطینی قوم پرست جماعت ہے، جو ’دو ریاستی حل‘ کی حامی اور اسرائیلی پارلیمانی سیاست کے اندر رہ کر فلسطینیوں کے شہری حقوق کی وکالت کرتی ہے۔

بلد نامی سیاسی جماعت سخت گیر نظریات کی حامل اور بائیں بازو کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے جس کے منشور میں اسرائیل کو ’یہودی ریاست‘ کے بجائے تمام شہریوں کے لیے مساوی ریاست میں تبدیل کرنا شامل ہے یعنی ایسی ریاست جہاں یہودیوں اور عربوں کو برابر کے قومی حقوق حاصل ہوں۔

رعام پارٹی پہلے اسی اتحاد کا حصہ تھی تاہم بعد ازاں اس نے خود کو اس اتحاد سے علیحدہ کرلیا تھا۔ اس جماعت کے سربراہ منصور عباس ہیں۔ یہ جماعت اب نظریاتی اختلافات کی وجہ سے جوائنٹ لسٹ سے الگ اکیلے الیکشن لڑتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل میپس، جو اب تک دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.