حساس امریکی ادارے کے 40 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا لیک

امریکا میں سرکاری اداروں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہے، جہاں گزشتہ ایک ماہ کے دوران حساس سرکاری معلومات افشا ہونے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ تازہ واقعے میں ایک لیک ویب سائٹ نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے 40 ہزار سے زائد ملازمین کا ڈیٹا جاری کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں نگرانی اور خفیہ معلومات جمع کرنے جیسے حساس شعبوں میں کام کرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ’ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سیکریٹس‘ نامی غیر منافع بخش گروپ نے بدھ کو بتایا کہ اس نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ملازمین کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ایک ایسے ادارے سے حاصل کی گئیں جس نے اپنا نام ’’ڈپارٹمنٹ آف پیس‘‘ بتایا ہے۔

جاری کردہ معلومات میں ملازمین کے نام، فون نمبر، ای میل پتے، عہدے اور محکمے کے اندر استعمال ہونے والے ای میل گروپس کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای)، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن، ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز اور سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی سمیت محکمے کے مختلف ذیلی اداروں سے تعلق رکھتا ہے۔

اس معاملے کو زیادہ حساس بنانے والی بات یہ ہے کہ ڈیٹا میں بعض اہلکاروں کی ذمہ داریوں اور تعیناتیوں سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں۔ ان میں خصوصی کارروائیوں، نگرانی، کمپیوٹر فرانزک اور خفیہ سرگرمیوں میں کام کرنے والے اہلکاروں کی تفصیلات شامل ہیں۔ بعض معلومات پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب تھیں، تاہم کچھ تفصیلات محکمے کے اندرونی تنظیمی ڈھانچے اور ایسے پروگراموں سے متعلق تھیں جن کے بارے میں پہلے عوامی طور پر معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ممکنہ ڈیٹا لیک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کر رہا ہے۔ محکمے کے مطابق ملازمین کے تحفظ کو یقینی بنانے پر کام جاری ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

ڈپارٹمنٹ آف پیس نے اپنے بیان میں اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب ہوم لینڈ سیکیورٹی کے پاس ان کی معلومات موجود ہیں تو ان کے پاس بھی محکمے کی معلومات ہونا منصفانہ ہے۔ گروپ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ جاری کردہ ڈیٹا محکمے کی جانب سے مستقبل میں ہونے والے ممکنہ نقصان کو محدود کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، گروپ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

رائٹرز بھی لیک ہونے والے ڈیٹا کے پورے ذخیرے کی صداقت کی تصدیق نہیں کر سکا، تاہم اس نے لیک میں نامزد چھ ملازمین کی ذاتی معلومات کا کریڈٹ بیورو کے ریکارڈ اور ڈارک ویب کی معلومات رکھنے والے پلیٹ فارم ’ڈسٹرکٹ 4 لیبز‘ کے ڈیٹا سے موازنہ کیا۔ اس کے علاوہ تین ملازمین سے براہ راست رابطہ کرکے ان کے فون نمبروں اور دیگر تفصیلات کی تصدیق کی گئی۔ ان میں سے ایک ملازم نے بتایا کہ اسے ڈیٹا لیک ہونے کے بارے میں پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی سرکاری اداروں کے ڈیٹا سے متعلق دو دیگر بڑے معاملات بھی خبروں میں رہے ہیں۔ ستمبر میں ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) سے بڑی مقدار میں ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس ڈیٹا میں ہزاروں ملازمین کی ملازمت سے متعلق حساس تفصیلات اور طبی معلومات شامل ہونے کی بات کی گئی تھی۔

اسی طرح گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ دفاع کو ڈیٹا لیک کے ایک واقعے کے بعد اجتماعی مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، جس میں لاکھوں موجودہ اور سابق فوجی اہلکاروں کی معلومات افشا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ڈپارٹمنٹ آف پیس اس سے پہلے بھی امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نظام تک رسائی حاصل کرنے کا دعویٰ کر چکا ہے۔ مارچ میں اس نے محکمے کے بیرونی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حالیہ واقعے میں ڈیٹا کے مکمل ذخیرے کی صداقت اور اس کے حصول کے طریقہ کار کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔ اوکٹا نے اپنے نظام میں کسی خلاف ورزی کے شواہد نہ ملنے کی بات کی ہے، جبکہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ممکنہ ڈیٹا لیک سے نمٹنے کے لیے اقدامات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث شدید گرمی

Read More

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ پر آن لائن صارفین کی شناخت آسان، ’گرین ڈاٹ‘ فیچر کی آزمائش شروع

میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول پیغام رسانی ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے آن

Read More

راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل میپس، جو اب تک دنیا بھر میں راستوں کی رہنمائی اور منزل تک رسائی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.