سربیا میں طلبہ تحریک کی تاریخی کامیابی، 14 سال سے برسراقتدار الیگزینڈر ووچیچ کو شکست

بدعنوانی اور جمہوریت مخالف اقدامات کے خلاف 2 سالہ احتجاج کے بعد طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی۔ الیگزینڈر ووچیچ نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کی جماعت حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔

یورپی ملک سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے پارلیمانی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرکے ملک کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ طویل عرصے سے اقتدار پر گرفت رکھنے والے قوم پرست رہنما الیگزینڈر ووچیچ نے اتوار کو شکست تسلیم کرلی۔ ان کی جماعت سربین پروگریسو پارٹی کے مقابلے میں طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک ’ اسٹوڈنٹس لسٹ‘نے واضح برتری حاصل کی۔ ووچیچ کے مطابق، ان کی جماعت کو تقریباً 105 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جبکہ مخالف تحریک 135 سے 140 نشستیں حاصل کرسکتی ہے۔ سربیا کی 250 رکنی پارلیمان کے انتخابات میں تقریباً 64 لاکھ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

ووچیچ نے انتخابی شکست کا ذمہ دار آزاد میڈیا اور بعض یورپی ممالک کی مبینہ مداخلت کو قرار دیا، تاہم ان کے مخالفین نے اس کامیابی کو عوام کی فتح اور خوف کے خاتمے کی علامت قرار دیا۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد دارالحکومت بلغراد سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔ مظاہرین نے ووچیچ کے حامیوں کے قائم کردہ خیمے اور باڑیں ہٹا دیں، جو ایک سال سے زائد عرصے سے دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں موجود تھے۔ تاہم جشن کے دوران بعض مقامات پر کشیدگی بھی دیکھی گئی اور پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ووچیچ کی مقبولیت میں کمی کا اہم سبب نومبر 2024 میں نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن پر کنکریٹ کی چھت گرنے کا واقعہ بنا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ طلبہ اور شہریوں نے اس حادثے کو مبینہ بدعنوانی، اقربا پروری اور تعمیراتی کاموں میں بے ضابطگیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاج شروع کردیا۔

2 سال تک جاری رہنے والی اس تحریک نے دیہی علاقوں تک رسائی حاصل کی اور ان ووٹرز کی حمایت بھی حاصل کی جو روایتی سیاست دانوں سے مایوس تھے۔ طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست میں یونیورسٹی کے طلبہ کے بجائے ماہرین، کھلاڑیوں، کسانوں اور فنکاروں کو شامل کیا گیا، جبکہ مہم کا بنیادی نکتہ جمہوریت کی بحالی، معیشت کی بہتری اور بدعنوانی کا خاتمہ تھا۔

سربیا کے انتخابات پر یورپی یونین سمیت عالمی برادری کی گہری نظر تھی، کیونکہ ملک یورپی یونین میں شمولیت کا امیدوار ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے طلبہ تحریک کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین قانون کی حکمرانی، آزاد میڈیا، بدعنوانی کے خاتمے اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے سربیا کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔

دوسری جانب انتخابی مبصرین نے ووٹروں پر دباؤ ڈالنے، ووٹ خریدنے کی کوششوں اور انتخابی مہم کے دوران کارکنوں کو ہراساں کیے جانے سمیت متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔ اس کے باوجود طلبہ تحریک کی کامیابی کو سربیا میں طویل عرصے سے جاری سیاسی جمود کے خاتمے اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

اسلحہ ساتھ رکھنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟ اہم خبر آگئی

سندھ حکومت نے کمپیوٹرائزڈ لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والے شہریوں کے لیے اہم فیصلہ کر

Read More

کراچی، پولیو مہم کی فول پروف سیکیورٹی کیلیے 7 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات

شہر قائد میں 2 تا 8 فروری 2026 جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم کے

Read More

TECHNOLOGY

مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز جدید جنگ کا نیا محاذ بن گئے

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے جدید جنگی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے

Read More

اسمارٹ فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہونے کی 4 بڑی وجوہات

اسمارٹ فون کی بیٹری کا جلد ختم ہونا صارفین کے لیے ایک عام مگر سنگین

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.