آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت فضائی اور زمینی سطح پر بھرپور اور مربوط کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

جمعہ 27 فروری کی صبح تقریباً 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ متعدد اہم فوجی تنصیبات، ہیڈکوارٹرز اور سرحدی پوسٹیں تباہ یا قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی کارروائی تاحال جاری ہے اور مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جانی نقصان اور تباہ شدہ تنصیبات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مختلف مراحل میں ہونے والی کارروائیوں کے بعد افغان طالبان کے ہلاک کارندوں کی مجموعی تعداد 133 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل 44، پھر 58 اور 72 ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم تازہ اپ ڈیٹ میں مجموعی اعداد و شمار کی تصدیق کی گئی ہے۔

کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پر قبضہ کیا جا چکا ہے، جبکہ اس کے علاوہ 2 کور ہیڈکوارٹرز، 3 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، 3 بٹالین ہیڈکوارٹرز، 2 سیکٹر ہیڈکوارٹرز، 2 ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور آرمڈ پرسنل کیریئرز بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔

فضائی حملے: کابل، قندھار، پکتیا، انگوراڈہ اور ننگرہار میں بڑے اہداف نشانہ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے کابل میں دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو مؤثر فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کیا۔ قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر، ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیس کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پکتیا میں بھی ایک کور ہیڈکوارٹر تباہ کیا گیا۔

ننگرہار میں ایک بڑے ایمونیشن ڈپو کو درست نشاندہی کے بعد تباہ کیا گیا، جس سے طالبان کے جنگی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مزید فضائی حملے جاری ہیں اور بڑے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انگوراڈہ کا ایک بڑا حصہ تباہ کر دیا جبکہ سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں۔

سرحدی سیکٹرز میں زمینی برتری

کرم، مہمند، باجوڑ، جنوبی وزیرستان، نواپاس اور طورخم سیکٹرز میں پاک فوج نے مؤثر زمینی کارروائیاں کیں۔ خرلاچی ٹرمینل اور داؤد پوسٹ سمیت متعدد اگلی چوکیوں کو تباہ یا خالی کروا لیا گیا۔ بعض مقامات پر افغان طالبان اہلکار مورچے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

طورخم کے قریب 4 افغان طالبان کارندوں کو گرفتار بھی کیا گیا، جبکہ باجوڑ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کرنے والے ایک دہشتگرد کو زندہ پکڑ لیا گیا جس نے اپنا نام عبداللہ بتایا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کی کسی پوسٹ پر قبضہ نہیں ہوا، نہ ہی کسی اہلکار کی شہادت یا گرفتاری کی اطلاع ہے۔

حکومتی مؤقف اور قومی عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وطنِ عزیز کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افواج پاکستان پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ تربیت اور مؤثر دفاعی حکمت عملی سے لیس ہیں اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف فوری، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں، اور آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے پاکستانی فوج کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صبح 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

دونوں جانب سے بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

مارشینلگ ایریا میں ملک بھر سے قربانی کے جانوروں سے لدے ٹرکوں ،ہیوی ٹریلرز کی قطاریں

کراچی عوام دوست منڈی میں قربانی کے جاانوروں کی آمد کا 18 واں روز کراچی:آج

Read More

مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی منظرنامے اور عالمی اثرات

اکیسویں صدی مشرقِ وسطیٰ کے اس تپتے ہوئے صحرا میں ہے جہاں کی ریت اب

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ کی نیا پیڈ سبسکرپشن فیچر متعارف کرانے کی تیاری

انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا پیڈ سبسکرپشن فیچر متعارف

Read More

اے آئی چیٹس قانونی ثبوت بن سکتی ہیں، وارننگ جاری

ٹیکنالوجی کے تیزی سے فروغ کے ساتھ ماہرین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.