کیا ایک جین انسانی دماغ کی پیچیدہ صلاحیتوں کو تشکیل دیتا ہے؟، چینی سائنسدانوں نے اہم ترین راز جان لیا

چینی سائنسدانوں نے انسانی دماغ کی پیچیدہ شکنوں اور تہوں کے بننے کے عمل کا راز فاش کرتے ہوئے ایک قدیم جین کے ذریعے دماغی ارتقا کا نیا راز جان لیا ہے۔

معروف بین الاقوامی جریدے ‘نیچر جینیٹکس‘ میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق نے انسانی ارتقا کے حوالے سے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

انسانی دماغ پیچیدہ شکنوں اور گہرائیوں کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اعلیٰ ادراکی صلاحیتوں کی بنیادی حیاتیاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

روایتی طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ پرائمیٹ کے دماغی غلاف یا سیریبرل کارٹیکس کی یہ توسیع بنیادی طور پر نئے ارتقا پذیر ہونے والے جینز کی مرہون منت ہے۔

تاہم چینی اکیڈمی آف سائنسز کے تحت کونمینگ انسٹی ٹیوٹ آف زولوجی کے محقق شی لی کی قیادت میں کام کرنے والی تحقیقی ٹیم نے ایک بالکل متبادل امکان پیش کیا ہے۔

ان کے مطابق کچھ قدیم اور انتہائی محفوظ جینز بھی ریگولیٹری عناصر میں تبدیلی کے ذریعے اپنے اظہار کی سطح کو تبدیل کر کے انسانی دماغ کے ارتقا میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

گلہری سے لے کر انسان تک

اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے تحقیقی ٹیم نے چوہوں، درخت  پر چلنے والی گلہریوں یعنی ٹری شریوز، مارموسٹس، مکاکس اور انسانوں کے جنینی دماغی غلاف کی مختلف تہوں کے ٹرانسکرپٹومک ڈیٹا کا گہرائی سے موازنہ کیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ’سی سی این بی1 آئی پی 1‘نامی ایک قدیم جین پرائمیٹس کے ظہور سے بہت پہلے ٹری شریو کے دماغ میں بھی موجود تھا، لیکن اس کی اظہار کی سطح نسبتاً کم تھی۔

ٹیم نے مزید انکشاف کیا کہ ارتقائی عمل کے دوران اس قدیم جین کی اظہار کی سطح میں ٹری شریوز، مارموسٹس، مکاکس اور انسانوں کے درمیان ایک واضح اور مرحلہ وار اضافہ ہوا، جو انسانی دماغ میں پہنچ کر اپنی بلند ترین سطح پر آ گئی۔

محقق شی لی کے مطابق اس قدیم جین کی اظہار کی سطح کارٹیکس کی شکنوں کی ڈگری کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔

ہموار دماغ رکھنے والے مارموسٹس میں اس جین کی سطح ٹری شریوز جیسی ہوتی ہے، جب کہ شکن دار دماغ والے مکاکس میں یہ سطح بلند ہو جاتی ہے اور انسانوں میں یہ اپنی انتہا پر ہوتی ہے۔

چوہوں میں دماغی شکنوں کی تخلیق اور بہتر یادداشت

تحقیقی ٹیم نے ایک اہم ریگولیٹری سیکونس’سی آر ای 1‘ کی بھی نشاندہی کی جو اس جین کے بلند اظہار کو متحرک کرتا ہے۔ اس جین کے فعل کی تصدیق کے لیے سائنسدانوں نے ایک ماؤس ماڈل تیار کیا جس میں یہ جین ڈالا گیا۔

 تجربے کے نتائج حیرت انگیز تھے، وہ چوہے جن کا دماغ عام طور پر بالکل ہموار ہوتا ہے، اس جین کے نفاذ کے بعد دماغی فولڈنگ یا شکنوں کے ڈھانچے کی تشکیل کا مظاہرہ کرنے لگے۔

اس کے ساتھ ساتھ، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ان چوہوں نے رویے کے مختلف ٹیسٹوں میں اپنی سیکھنے کی صلاحیت اور یادداشت میں نمایاں بہتری ظاہر کی۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ نہ صرف انسانی دماغ کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک نیا نکتہ نظر فراہم کرتا ہے، بلکہ اعصابی نشوونما کے عوارض کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے بھی نئی راہیں کھولتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی: ایدھی سینٹر پر مسلح ڈاکوؤں کا دھاوا، 65 لاکھ روپے لوٹ کر فرار

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر پر 4 مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول دیا

Read More

میر رضا کیس، راتوں رات قبر کشائی سے پہلے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل

کراچی:  میر رضا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ محکمہ صحت سندھ نے قبر

Read More

TECHNOLOGY

بظاہر فیصلہ آپ کا لیکن پیچھے اے آئی کار فرما، نئی تحقیق نے خطرناک پہلو دکھا دیا

مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس اب صرف سوالات کے جواب دینے یا معلومات فراہم کرنے

Read More

مصنوعی ذہانت نے کتابوں کے پبلشرز میں افراتفری مچا دی، مصنفین شک کے گھیرے میں

اے آئی کے استعمال نے کتابوں کی اشاعت کی صنعت کے سامنے ایک نیا اور

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.