بھارتی عدالت نے ’کاکروچ‘ تحریک کے رہنماؤں کو  رہا کر دیا، اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی طرف مارچ کا اعلان

بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رہنماؤں نے حراست سے رہائی کے چند گھنٹے بعد ہی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

حکام نے دارالحکومت نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے، تاہم اتوار کو بھی مختلف مقامات پر احتجاجی اجتماعات ہوئے۔

یہ احتجاج ملک بھر میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد کئی ہفتوں سے جاری حزب اختلاف کی تحریک کا حصہ ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم بھارتی الیکشن کمیشن نے کسی بھی غلط کاری کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور 2 دیگر رہنماؤں کو اتوار کے روز رہا کیا گیا۔

انہیں ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

تحریک اور ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، ہفتے سے اب تک ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

پارٹی کے ایک اور اہم رہنما سورَو داس نے رہائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور پُرامن احتجاج کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

اتوار کو نئی دہلی میں نسبتاً چھوٹے پیمانے پر احتجاجی اجتماعات ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں نے دیکھا کہ جنتر منتر کے قریب درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ احتجاجی مقام کو بند رکھا گیا تھا۔ پولیس نے حراست میں لیے گئے افراد کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بھی بتایا کہ کم از کم 16 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔ تنظیم نے پولیس کی کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی اہمیت کے واقعات کی رپورٹنگ جرم نہیں بلکہ صحافیوں کا کام ہے۔

رواں سال جولائی میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کیے گئے احتجاج کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ یہ پیش رفت مودی حکومت کی جانب سے کسی مطالبے کے سامنے پیچھے ہٹنے کے غیر معمولی واقعات میں شمار کی گئی۔

دارالحکومت میں سخت سکیورٹی، میٹرو اسٹیشن بند

ہفتے کے روز ہونے والی ریلی سے قبل حکام نے نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن کیا۔ متعدد میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے، 200 سے زیادہ ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی اور کئی علاقوں میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اتوار کو بھی ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات رہے، تاہم میٹرو اسٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے اور موبائل فون کی وہ خدمات بھی بحال کر دی گئیں جن پر پہلے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

37 سالہ آرتی نامی ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز 10 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا تھا، لیکن وہ اتوار کو دوبارہ احتجاج میں شریک ہونے آئیں۔ ان کے بقول، ’میں آج پھر یہاں آئی ہوں کیونکہ احتجاج میں شامل رہنا اہم ہے۔ ‘

کاکروچ جنتا پارٹی کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ رہنماؤں کو اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ ایک سال تک’امن برقرار رکھیں گے ‘۔

سپریم کورٹ کی مداخلت

بھارتی سپریم کورٹ نے ہفتے کے روز مظاہرین کی گرفتاریوں اور سیکیورٹی اقدامات کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران حکام کو ہدایت کی کہ پُرامن اجتماع کرنے والوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہ لیا جائے۔

جسٹس جوئے مالیا باگچی نے زبانی ریمارکس میں کہا کہ کسی شخص کو حراست میں لینے سے پہلے قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے حکام کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ انٹرنیٹ کی سہولت میں خلل نہ ڈالا جائے، جیسا کہ ہفتے کے روز دیکھنے میں آیا تھا۔

مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی تحریک

کاکروچ جنتا پارٹی مئی میں ایک طنزیہ سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی اور سوشل میڈیا پر اسے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہوئی۔ یہ تحریک مودی کے اقتدار کی تیسری مدت کے دوران ان کی حکومت کے لیے اہم سیاسی چیلنجز میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔

رہائی کے فوراً بعد پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’بھارت کے لیے شرمندگی‘ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک نے اس سے بڑا بزدل اور دھونس جمانے والا شخص کبھی نہیں دیکھا۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے نتیجے میں 13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ نام ووٹر فہرستوں سے نکال دیے گئے۔

ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل سے اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں اور اس کا فائدہ مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچ سکتا ہے۔ تاہم انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہری اندراجات، وفات پا جانے والے افراد اور جعلی ووٹروں کے نام نکالنے کے لیے کی گئی۔

ہفتے کے روز مظاہرین کی گرفتاریوں کے بعد مودی حکومت پر اختلافی آوازوں کو دبانے کے الزامات عائد کیے گئے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے نئی دہلی میں من مانے طریقے سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا، جسے بھارتی حکومت نے نامناسب قرار دیا۔

راہول گاندھی کا سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرنے کا اعلان

بھارتی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اعلان کیا کہ وہ پیر کے روز جمہوریت پر یقین رکھنے والے ہر شخص کے ساتھ سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا، ’ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ یہ بزدل ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘

Share On Social Media

KARACHI

میر رضا ہلاکت: شرجیل میمن نے اپنا اور بیٹے کا نام کیس سے جوڑنے پر سائبر کرائم سے رجوع کرلیا

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی

معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک نئے فیچر کی آزمائش

Read More

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گوگل کے آفس کا افتتاح کردیا

گوگل نے پاکستان میں اپنا باضابطہ دفتر قائم کردیا، وزیراعظم شہباز شریف اور گوگل کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.