ایرانی میزائل سان ڈیاگو یا لاس اینجلس سے ٹکرائے تو دنیا ایک ہولناک منظر دیکھے گی، ٹرمپ

امریکی مڈ ٹرم (وسط المدتی) انتخابات سے قبل وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اختیارات پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع اور رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ہدایات جاری کی ہیں کہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط المدتی انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف ممکنہ ہدف شدہ حملوں کی منصوبہ بندی کی جائے اور تمام آپریشنل آپشنز تیار رکھے جائیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے فوکس نیوز کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہر وقت تمام آپشنز کھلے ہیں اور ایران کو اب یہ طے کرنا ہے کہ وہ معاملے کو ’آسان راستے سے حل کرتا ہے یا مشکل راستے سے‘۔

ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر ایران نے امریکی شہروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی یا وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’اگر ایرانی میزائل سان ڈیاگو یا لاس اینجلس جیسے شہروں سے آ ٹکرائے تو دنیا ایک ہولناک منظر دیکھے گی۔ ہم اپنے شہروں اور ملک کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔‘

‘دی اٹلانٹک’ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا محدود فوجی کارروائی سے ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بعض حکام کا خیال ہے کہ محدود حملے فوری طور پر گیس کی قیمتوں میں کمی یا آبنائے ہرمز میں مکمل امن کا باعث نہیں بنیں گے، لیکن اس سے صدر ٹرمپ کا سیاسی موقف مضبوط ہوگا اور مڈ ٹرم کے بعد مزید جامع فوجی اقدام کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ایران 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی فوری بند کرے اور اپنی صلاحیت میں نمایاں کمی لائے۔

وینس کا کہنا تھا’اگر ایران ایٹم بم نہیں بنانا چاہتا تو اسے 60 فیصد افزودہ ایندھن کی کیا ضرورت ہے؟ ہم محض باتوں کے بدلے معافی نہیں دیں گے بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

وینس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ واشنگٹن کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ تہران میں فیصلے کون کر رہا ہے، خصوصاً اس جنگ کے آغاز میں امریکی و اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد طاقت کے مراکز کا تعین پیچیدہ ہو گیا ہے۔

اس کے جواب میں ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ جوہری افزودگی کا حق ایران کی ‘ریڈ لائن’ ہے جس پر کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی حکام کے بیانات کو متضاد اور ملا جلا پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خود نہیں جانتا کہ اسے کیا کرنا ہے۔

علاوہ ازیں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اس دعوے کو سخت الفاظ میں رد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور اس پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔

سینٹ کام نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا’آبنائے ہرمز کھلی ہے اور وہاں سے روزانہ 20 ملین بیرل خام تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل جاری ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری یہ بڑا آپریشن جلد اختتام پذیر ہوگا اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ’چٹان کی طرح تیزی سے نیچے آئیں گی‘۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

ایپ اسٹورز میں عریاں تصاویر بنانے والی ایپس کے چھپے ہونے کا انکشاف

مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) نے حالیہ برسوں میں کئی صنعتوں کو بدل

Read More

آئی فون کی فروخت نے تاریخ کی بلند ترین سطح حاصل کر لی

ایپل نے اپنی مالی سال کی شروعات مضبوط انداز میں کی ہے اور بتایا ہے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.