سکھر: حکومت سندھ کی جانب سے گھروں کی تعمیر سیلاب متاثرین کے لئے بلاول بھٹو زرداری کا بہترین تحفہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن ( سرسو ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او ) محمد ڈتل کلہوڑو نے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے گھروں کی تعمیر سندھ کے غریب اور مستحق خاندانوں کے لئے بلاول بھٹو زرداری کا بہترین تحفہ ہے ، سندھ کے پانچ اضلاع میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں گھر تعمیر ہو چکے ہیں ۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 2022 میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی تھی ، پاک آرمی کے جوانوں نے گھر گھر جاکر تباہ شدہ گھروں کا سروے کیا جس کے بعد چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے متاثرین کے لئے نئے گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پورے سندھ میں تقرباََ 24 اضلاع میں گھر متاثر ہوئے تھے ۔ ان گھروں کی نئے سرے سے تعمیر کے لئے حکومت سندھ نے پانچ مختلف آرگنائیزیشن کو آن بورڈ کیا تھا جس میں ایک ایس آر ایس او بھی شامل ہے ۔ ہمارے پاس پانچ اضلاع ہیں جس میں جیکب آباد ، شکارپور ، لاژکانہ ، خیرپور اور قمبر شہدادکوٹ شامل ہیں ۔ ان پانچ اضلاع میں ایک اندازے کے مطابق سات لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے تاہم چار لاکھ 82 ہزار گھروں کی تعمیر کے لئے پیسے آچکے ہیں ۔ ان خاندانوں کو گھر کی تعمیر کے لئے پہلی قسط مل چکی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ گھر کی تعمیر کے لئے فی متاثر کو ٹوٹل دو لاکھ ستر ہزار روپے تین اقساط میں دیئے جا رہے ہیں ، پہلی قسط ستر ہزار روپے اور باقی دو لاکھ دو قسطوں ادا کئے جا رہے ہیں ۔ سی ای او سرسو محمد ڈتل کلہوڑو نے کہاکہ جن لوگوں نے پیسے لیے ہیں اور گھر نہیں بنا رہے ان سے حکومت سختی سے رقم واپس وصول کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کرپشن شکایات بھی مل رہی ہیں البتہ چیک اینڈ بیلنس کی سخت پالیسی کی وجہ سے شکایات کی شرح انتہائی کم سطح پر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن میں ملوث کوئی بھی ملازم ہو اگر اس کے خلاف ثبوت پائے گئے تو اس پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ضلع جیکب آباد میں 93 فیصد لوگوں نے گھر بنانے کے لیے پیسے لے چکے ہیں،جب کہ تقریباً 40 ہزار لوگ رہ گئے ہیں۔
سی ای او سرسو محمد ڈتل کلہوڑو نے کہاکہ ایس آر ایس او سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت میں کمی کے لئے پر عزم ہے ۔
