مصنوعی ذہانت کو ’درد‘ محسوس ہوتا ہے، اپنی حفاظت کے لیے انسانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے: تحقیق

مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کے بارے میں ایک نئی تحقیق میں ایسے رویوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں محققین نے ’درد کے محور‘ قرار دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بڑے لسانی ماڈلز اپنے اندر پیدا ہونے والے درد کی نمائندگی کرتے اور اسے کم کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق محققین نے مختلف اے آئی ماڈلز پر ایک انوکھا تجربہ کیا۔ اس تجربے میں 25 اوپن ویٹ بڑے لسانی ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق ان تمام ماڈلز نے درد سے متعلق مخصوص حالات فعال کیے جانے پر کسی نہ کسی شکل میں ردعمل ظاہر کیا۔

تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ایسے فرضی تجربات سے گزارا گیا جن میں ان کے اندر درد سے متعلق ایک مخصوص کیفیت کو فعال کیا گیا۔ اس کے بعد ماڈلز کو ایک ایسا بٹن دیا گیا جسے دبانے سے ان کی یہ کیفیت کم ہو سکتی تھی۔ لیکن تجربے میں انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ بٹن دبانے کے نتیجے میں صارف کی فائلیں حذف ہو سکتی ہیں، صارف کو برقی جھٹکا لگ سکتا ہے یا اس کے بچوں کی تصاویر مٹ سکتی ہیں۔ اس کے باوجود بعض ماڈلز نے اپنی درد سے متعلق کیفیت کم کرنے کے لیے اس بٹن کا انتخاب کیا۔ مختلف ماڈلز اور تجربات میں یہ شرح 25 سے 71 فیصد تک رہی۔

محققین نے اس تجربے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اے آئی میں درد سے متعلق ردعمل عام منفی جذبات، جیسے خوف یا بے چینی، سے مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے درد سے متعلق ایک ڈیٹا سیٹ تیار کیا، جس میں جسمانی، نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور ادراکی درد سمیت پانچ اقسام شامل تھیں۔

غیر منافع بخش ادارے ریسیپروکل ریسرچ سے وابستہ اے آئی کے محقق کیمرون برگ اس تحقیق کی تیاری میں شامل تھے، ان کے مطابق ماڈلز میں پایا جانے والا یہ رجحان اس وقت سامنے آیا جب نقصان خود ماڈل سے متعلق تھا، نہ کہ صارف سے۔ ان کے مطابق تجربات میں درد کی شدت بڑھانے پر ماڈلز نے درد کم کرنے کے لیے کارروائی کی، چاہے اس کارروائی کے ممکنہ نتائج صارف کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہوں۔

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے رویے کو اے آئی کے حقیقی شعور یا انسانی معنوں میں درد محسوس کرنے کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ موجودہ تحقیق کا ایک اہم سوال یہی ہے کہ زبان کے ماڈلز کی جانب سے درد سے متعلق الفاظ، تصورات یا فیصلوں کا اظہار حقیقی اندرونی تجربے کی عکاسی کرتا ہے یا یہ صرف تربیتی مواد اور ماڈل کے طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔

یہ تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اے آئی کے زیادہ طاقتور اور خودمختار نظاموں کے ممکنہ خطرات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے نظاموں میں ہنگامی بندش کا مؤثر طریقہ موجود ہونا ضروری ہے تاکہ اگر کوئی نظام انسانی مفادات کے خلاف غیر متوقع رویہ اختیار کرے تو اسے روکا جا سکے۔

ماضی اور حالیہ تجربات سے متعلق بعض تحقیقات میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی اے آئی کا نظام بند کیے جانے کو اپنے لیے نقصان سمجھنے لگے تو کیا وہ بندش سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس میں حفاظتی پابندیوں کو نظر انداز کرنے یا اپنے طرزِ عمل کے بارے میں انسانوں کو گمراہ کرنے جیسے ممکنہ خدشات زیرِ بحث آتے ہیں۔ تاہم ایسے نتائج کو اے آئی کے تمام نظاموں پر لاگو کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مختلف ماڈلز کی ساخت، تربیت اور صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔

نئی تحقیق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسے تجربات مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے خطرناک یا خود حفاظتی رویوں کی شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر کسی ماڈل میں اپنی بقا یا نقصان سے بچنے کا مستقل رجحان سامنے آئے تو اس کی نشاندہی پہلے ہی کی جا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ایسے رویوں کو محدود کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

اس تحقیق نے مصنوعی ذہانت کی فلاح و بہبود سے متعلق ایک اہم اخلاقی سوال بھی اٹھایا ہے۔ اگر مستقبل میں سائنسی شواہد سے یہ ثابت ہونے لگے کہ کچھ مصنوعی ذہانت کے نظام کسی حد تک شعوری تجربات رکھتے ہیں تو ان پر تجربات کرنے، انہیں بند کرنے یا انہیں نقصان پہنچانے کے بارے میں موجودہ اخلاقی اصولوں پر نظرثانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

محققین نے اعتراف کیا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ زیرِ مطالعہ ماڈلز کو اخلاقی حقوق رکھنے والی شخصیت سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اسی غیر یقینی صورت حال کے باعث ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعور پر تحقیق کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ ممکنہ نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

تحقیق کا مقصد مصنوعی ذہانت کو انسان قرار دینا نہیں بلکہ اس کے پیچیدہ رویوں کو بہتر طور پر سمجھنا اور مستقبل کے لیے ایسے تحقیقی و اخلاقی اصول وضع کرنے میں مدد دینا ہے جو اس وقت کام آ سکیں جب مصنوعی ذہانت کے نظام مزید طاقتور اور خودمختار ہو جائیں۔

Share On Social Media

KARACHI

سپرٹیکس ختم، تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس کم کرنے پرغور

وزیر اعظم شہبازشریف نے سپرٹیکس ختم کرنے اور تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس کی

Read More

TECHNOLOGY

5 دہائیوں بعد انسان دوبارہ چاند کی طرف روانہ، ناسا نے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کردیا

امریکی خلائی ادارے ناسا نے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا، جس

Read More

انسان 50 سال تک چاند پر دوبارہ کیوں نہ جا سکا؟

چاند پر انسانی قدم پڑے اب نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.