سانحہ پمز کے بعد گائنی کے پیچیدہ کیسز راولپنڈی اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ

پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے باعث ’14’ نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے عارضی طور پر گائنی کے پیچیدہ کیسز پولی کلینک اور راولپنڈی کے اسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔

اس سانحے کے بعد وفاقی وزارتِ صحت کا عارضی دفتر پمز میں ہی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ بحالی کے کاموں اور مریضوں کے مسائل کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے۔

ایک سینیئر ماہرِ امراضِ نسواں کے مطابق اسپتال میں مریضوں کو واپس بھیجنے کی کوئی باقاعدہ پالیسی نہیں، تاہم نرسری جل جانے اور اس کی مرمت میں وقت لگنے کے باعث انتہائی تشویشناک کیسز دیگر اسپتالوں کو ریفر کیے جا رہے ہیں۔

جمعرات کو بھی پمز میں 3 سے 4 پیچیدہ ڈلیوریز کی گئیں، تاہم اسپتال انتظامیہ کو احساس ہے کہ اگر تمام مریضوں کو دوسری جگہ بھیجا گیا تو دیگر اسپتالوں کا نظام بھی دباؤ کا شکار ہو جائے گا، اس لیے صرف انتہائی ضروری کیسز منتقل کیے جا رہے ہیں۔

وزارتِ صحت کا دفتر پمز میں منتقل

نئے سیکریٹری صحت کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اسپتال کے مسائل کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اپنا زیادہ تر وقت پمز میں ہی گزاریں گے اور وزارت کا کام یہیں سے چلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ صحت کے شعبے میں نئے ہیں، لیکن بطور منتظم وہ اسپتال کے انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گورننس کو بہتر بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اہم اجلاسوں میں شرکت کے بعد وہ واپس پمز ہی آیا کریں گے۔

دلخراش سانحہ اور متضاد دعوے

بدھ کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی تیسری منزل پر آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 14  معصوم جانیں ضائع ہو گئیں۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق آگ ممکنہ طور پر وارڈ کے ‘ایئر کنڈیشنر میں دھماکے’ کے باعث لگی، تاہم حتمی وجوہات کا تعین ہونا باقی ہے۔

موقع پر موجود عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ انہیں امداد کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا اور دروازے مقفل ہونے کی وجہ سے انہیں کھڑکیاں توڑ کر بچوں کے آئی سی یو تک پہنچنے کی کوشش کرنی پڑی، تاہم حکام ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ہنگامی اقدامات اور تحقیقات کا آغاز

اس افسوسناک واقعے پر ملک بھر میں شدید رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بدھ کو ہی وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا اور واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے بھی اس واقعے کے فوری بعد پنجاب بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں، محکمہ صحت اور ریسکیو اداروں کو آگ بجھانے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فائر سیفٹی کے موثر انتظامات یقینی بنانے کی ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

سعد ایدھی استنبول پہنچ گئے، اسرائیلی تشدد سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف

پاکستان نے انسانی حقوق کے کارکن سعد ایدھی کی رہائی کی تصدیق کی ہے، جنہیں اسرائیل کی

Read More

پنکی کیس: تھانے کی ویڈیو غائب، خواتین اہلکار کلیئر، ایس ایچ او کا کردار مشکوک

کراچی میں ہائی پروفائل انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں انتہائی سنسنی خیز اور

Read More

TECHNOLOGY

اے آئی پر بڑھتا انحصار انسانی ذہانت کے لیے خطرہ بننے لگا، برطانوی سائنسی ادارہ

برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر بڑھتا ہوا

Read More

اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ترقی پر ماہرین نے دنیا کو خبردار کردیا

تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اے آئی انسانوں کی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے،

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.