لاہور، جو صدیوں سے علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیب و ثقافت کا امین رہا ہے، ایک بار پھر ایک یادگار ادبی شام کا انعقاد کرنے جا رہا ہے۔ بزمِ امجد کے زیرِ اہتمام 9 اگست بروز اتوار شام 6 بجے پلاک، ہال نمبر 1، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک عظیم الشان جشنِ آزادی مشاعرہ منعقد ہوگا، جس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
یہ باوقار مشاعرہ معروف شاعرہ ڈاکٹر صغریٰ صدف کی زیرِ صدارت منعقد ہوگا، جبکہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر ممتاز شاعر انیس احمد اور معروف شاعرہ طاہرہ سراء اپنی علمی و ادبی موجودگی سے اس محفل کو چار چاند لگائیں گے۔
مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء اپنا تازہ کلام پیش کریں گے۔ ان میں میزبان شاعر امجد اقبال امجد، شوکت علی ناز، عروج درانی، ڈاکٹر جنید رضا، ندیم خالد، نبیل نجم، گلزیب فاطمہ، وفا تبسم اور راجا نیئر ، میاں خاور سلیم شامل ہیں۔ اس باوقار تقریب کی نظامت کے فرائض اپنی منفرد ادبی اندازِ بیان کے ساتھ ڈاکٹر مدیحہ بتول انجام دیں گی۔
جشنِ آزادی کے مبارک ایام میں منعقد ہونے والا یہ مشاعرہ صرف ایک ادبی نشست نہیں بلکہ وطنِ عزیز پاکستان سے محبت، قومی یکجہتی اور اردو ادب کے فروغ کا خوبصورت استعارہ ہوگا۔ سامعین کو بہترین شاعری، فکری تازگی، حب الوطنی کے جذبات اور زبان و بیان کی لطافت سے بھرپور ایک یادگار شام میسر آئے گی۔
ادبی حلقوں میں اس مشاعرے کا چرچا اس وقت عروج پر ہے۔ لاہور کے ادیب، شاعر، نقاد، طلبہ اور شعر و ادب سے محبت رکھنے والے افراد اس تقریب کے بے حد منتظر ہیں۔ شہر بھر میں اس مشاعرے کو موضوعِ گفتگو بنایا جا رہا ہے، اور ہر طرف اسی ادبی جشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
بزمِ امجد نے ہمیشہ معیاری اور باوقار ادبی تقریبات کے انعقاد کی روایت کو برقرار رکھا ہے، اور اس بار بھی توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مشاعرہ لاہور کی ادبی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ کرے گا۔ منتظمین نے مہمانوں کے استقبال، نشستوں، صوتی نظام اور تمام انتظامات کو بہترین معیار کے مطابق مکمل کر لیا ہے تاکہ آنے والے مہمان ایک یادگار اور خوشگوار ادبی شام سے لطف اندوز ہو سکیں۔
تمام اہلِ ذوق، شعر و ادب کے شائقین اور وطنِ عزیز سے محبت رکھنے والے افراد کو اس عظیم الشان جشنِ آزادی مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ آزادی کی خوشیوں کو شاعری، محبت، اخوت اور قومی جذبے کے ساتھ منایا جا سکے۔ یقیناً یہ محفل برسوں تک اہلِ لاہور کے دلوں میں اپنی خوشبو بکھیرتی رہے گی اور بزمِ امجد کی ادبی خدمات کا ایک روشن حوالہ ثابت ہوگی۔



































