نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی

 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔

پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کوشش ہوتی ہے سیاسی تقریر نہ کروں، آج انہیں تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کے شرکا نے اپنے مسائل بتائے، جس سسٹم کے اندر ہم رہ رہے ہیں وہ کولیپس کر چکا ہے، مانیں یا نہ مانیں، ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں اور جمہوریت کے بڑے سپورٹر ہیں، جمہوریت کے اندر بھی تین، چار نظام ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے سسٹم میں اصلاحات ضروری ہیں، سیاسی نظام چلانے والے بھی اسی ہال میں موجود ہیں اور سیاسی نظام کو فنڈنگ کرنے والے بھی یہی بیٹھے ہیں، کوئی کسی مجبوری اور کوئی کسی مجبوری میں فنڈنگ دیتا ہے، جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کر لیا یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا، اس نظام میں ہر چیز بری نہیں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولیات چاہییں جو ہم نہیں دے پاتے، آج بھی لوگ دس گھنٹے سفر کر کے عدالت جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میاں عامر محمود کی تجاویز سنی ہیں، صوبوں کے معاملے کو عوامی سطح پر لے کر جانا ہوگا، نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس مسئلے کا حل ہیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی سطح پر جانا ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے یونٹ بنانے سے نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا، نئے صوبوں سے لے کر ملک کے ایک ایک ایشو کو حل کرنا پڑے گا، جب تک یہ اکٹھے نہیں بیٹھیں گے ملک اسی حالت میں رہے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دے کر خوش نہیں کیا جا سکتا، نوجوان چاہتے ہیں سسٹم کو ٹھیک کیا جائے، انہیں جائز طریقے سے ملازمت ملے، نوجوان نسل نوکریاں اور اپنا حق مانگتی ہے، یہ کاکروچ اگر اکٹھا ہو گیا تو ہر چیز الٹ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کی بنیاد کو ٹھیک نہیں کریں گے یہ ملک ایسا ہی رہے گا، سیاسی نظام میں بزنس کمیونٹی کو بھی آگے آنا ہوگا، بزنس کمیونٹی کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا ورنہ اسی طرح چیزیں چلتی رہیں گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ترقی کے عمل کو تیزی سے بڑھانے کے لیے ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی طرف جانا ہوگا، بزنس مین کو لیڈنگ رول ادا کرنا ہوگا، بزنس کمیونٹی فنڈنگ تو کرتی ہے مگر سیاست میں نہیں آتی، نظام کی تنظیم نو کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وہ 18 گھنٹے بھی کام کریں تو صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہوتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا، ہم کیوں صرف سیاسی جماعت کی سوچ تک رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خدارا سیاسی جماعتیں ملک کا اندرونی نظام بھی ٹھیک کریں، جب تک سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے بہتری نہیں آئے گی، نئے صوبوں کے معاملے کو پارلیمنٹ اور یونیورسٹیز میں لانا چاہیے۔

محسن نقوی نے کہا کہ وہ بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن سپورٹ کا یقین دلاتے ہیں، پوری امید ہے کہ اگر ہم سب متحد ہوں گے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

150 تولے سونا اور لاکھوں کی نقدی؛ کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی

کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں رواں سال کی بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی

Read More

وزارت خزانہ نے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

وزارتِ خزانہ نے پاکستان کے خودمختار فنانسنگ معاملات، جن میں یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ

Read More

TECHNOLOGY

سعودی محققین کی بڑی کامیابی، پاس ورڈ کے بغیر ڈیوائسز کی شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی تیار

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے ایک ایسی

Read More

اوپن اے آئی کل اپنا جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈل ’جی پی ٹی 5.6‘ متعارف کرائے گی

مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کل (بروزجمعرات) اپنا اب تک کا جدید

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.