شاہ چارلس نے اسکاٹ لینڈ کے نایاب شاہی خزانے کو تباہی سے کیسے بچایا؟

جب بھی برطانوی شاہی خاندان کا تذکرہ ہو تو زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں اسکاٹ لینڈ کا بالمورل کیسل آتا ہے جہاں شاہ چارلس سوم اور شاہی خاندان گرمیوں کی تعطیلات گزارتے ہیں۔ تاہم کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ شاہ چارلس کی نگرانی میں اسکاٹ لینڈ میں ایک اور تاریخی شاہی جائیداد بھی موجود ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے جنوبی علاقے ایسٹ آئرشائر میں واقع ڈمفریز ہاؤس 2 ہزار ایکڑ پر پھیلا ایک شاندار تاریخی شاہی اسٹیٹ ہے جو اپنے عظیم الشان محل، باغات اور دنیا کے نایاب فرنیچر کے ذخیرے کے باعث منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

اب یہ نہ صرف ایک نایاب ثقافتی خزانے کو تباہ ہونے سے بچانے کی علامت بن چکا ہے بلکہ آج تعلیم، روزگار اور پائیدار ترقی کا منفرد مرکز بھی سمجھی جاتا ہے

فروخت کے چند لمحے پہلے شاہ چارلس کی مداخلت

سنہ 2007 میں اس تاریخی اسٹیٹ کے مالک مارکویس آف بیوٹ نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس کے اندر موجود قیمتی تاریخی فرنیچر اور نوادرات کی نیلامی کی تیاریاں بھی مکمل ہو چکی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق کئی تاریخی اشیا لندن منتقل کرنے کے لیے محل سے نکالی بھی جا چکی تھیں کہ اسی دوران اس وقت کے پرنس آف ویلز اور موجودہ بادشاہ شاہ چارلس سوم کو اس صورتحال کا علم ہوا۔

شاہ چارلس نے فوری طور پر تقریباً 45 ملین پاؤنڈ (تقریباً 90 ملین ڈالر) کی مالی معاونت اور مختلف اداروں کے تعاون سے اس محل کو خرید کر محفوظ بنانے کی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں یہ تاریخی ورثہ تباہ ہونے سے بچ گیا۔

اس موقعے پر شاہ چارلس نے کہا تھا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ڈمفریز ہاؤس ہمیشہ کے لیے ضائع ہونے والا ہے تو انہیں احساس ہوا کہ اس قیمتی تاریخی خزانے کو بچانے کے لیے فوری اقدام کرنا ناگزیر ہے۔

صرف محل نہیں پورا تاریخی ورثہ محفوظ ہوا

اس فیصلے سے نہ صرف عمارت محفوظ ہوئی بلکہ اس کے اندر موجود دنیا کے مشہور فرنیچر ساز تھامس چپنڈیل کے تقریباً 50 نایاب شاہکار بھی محفوظ ہو گئے جنہیں آج دنیا کے بہترین تاریخی فرنیچر کے مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سال1759 میں تعمیر ہونے والا تاریخی شاہکار

ڈمفریز ہاؤس کی تعمیر سنہ 1759 میں اسکاٹ لینڈ کے معزز خاندان کے لیے کی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ مختلف شاہی خاندانوں کی ملکیت بنتا رہا۔

یہ محل اسکاٹ لینڈ کی پہلی عمارتوں میں شامل تھا جہاں بجلی نصب کی گئی تھی جبکہ اس کی تعمیر مشہور اسکاٹش معمار رابرٹ ایڈم اور جان ایڈم نے کی تھی۔

محل کے اندر آج بھی قدیم قالین، مرانو شیشے کے فانوس، فلیمش ٹیپسٹریز، تاریخی پینٹنگز اور تقریباً 38 قدیم گرینڈ فادر کلاک محفوظ ہیں جن میں بعض گھڑیاں 1711 کی بنی ہوئی ہیں۔

شاہ چارلس کی بنائی ہوئی تصویریں بھی موجود

محل کی گیلریوں میں شاہ چارلس کی اپنی بنائی ہوئی واٹر کلر پینٹنگز بھی رکھی گئی ہیں جن میں اسکاٹ لینڈ کے قدرتی مناظر اور بالمورل کے اطراف کے پہاڑ نمایاں ہیں۔

شاندار باغات اور ہزاروں درخت

محل کے باہر 5 ایکڑ پر مشتمل ملکہ الزبتھ دوم والڈ گارڈن، تاریخی آبشاریں، فوارے، درختوں کا نایاب ذخیرہ اور تقریباً 500 مختلف اقسام کے درخت موجود ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش بناتے ہیں۔

صرف سیاحتی مقام نہیں، ہنرمندی کا مرکز بھی

شاہ چارلس نے اس اسٹیٹ کو صرف تاریخی ورثہ محفوظ رکھنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی فلاحی تنظیم دی کنگز فاؤنڈیشن کا مرکزی مرکز بھی بنا دیا

یہاں نوجوانوں کو مختلف روایتی ہنر سکھائے جاتے ہیں جن میں سنگ تراشی، لکڑی کا کام، لوہار کاری، شیشہ سازی، باغبانی، کپڑا سازی، فرنیچر سازی، روایتی فنون، کھانا پکانے کی تربیت اور صحت و تندرستی کے کورسز شامل ہیں۔

سالانہ 10 ہزار طلبہ تربیت حاصل کرتے ہیں

اس علاقے میں کوئلے کی کانیں بند ہونے کے بعد روزگار کے مواقع کم ہو گئے تھے تاہم آج یہی اسٹیٹ مقامی معیشت کی بحالی کی علامت بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 10 ہزار طلبہ یہاں مختلف ہنر سیکھنے آتے ہیں۔

روایتی ہنر دوبارہ زندہ کیے جا رہے ہیں

دی کنگز فاؤنڈیشن کے حکام کے مطابق مقصد صرف روزگار فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے روایتی ہنر محفوظ کرنا بھی ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ روایتی طریقۂ کار جدید صنعتوں کے مقابلے میں ماحول دوست بھی ہیں جو شاہ چارلس کے قدرتی ماحول سے ہم آہنگ ترقی کے وژن کا حصہ ہے۔

سیاح یہاں قیام بھی کر سکتے ہیں

ڈمفریز ہاؤس آنے والے سیاح نہ صرف تاریخی محل کا گائیڈڈ ٹور کر سکتے ہیں بلکہ شاہی اسٹیٹ کے اندر موجود فائیو اسٹار لاج یا خود مختار کاٹیجز میں قیام بھی کر سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محل کے ٹورز، تقریبات اور اسٹیٹ کی دکان (اس پراپرٹٰی میں قائم یادگاری اشیا اور تحائف کی دکان) سے حاصل ہونے والی آمدنی دی کنگز فاؤنڈیشن کے تعلیمی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔

شاہ چارلس کا ماڈل اب آسٹریلیا تک پہنچ گیا

رپورٹ کے مطابق ڈمفریز ہاؤس کا یہ ماڈل اب برطانیہ کے دیگر تاریخی مقامات پر بھی اپنایا جا رہا ہے جبکہ آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں واقع تاریخی ہل ویو اسٹیٹ کو بھی اسی طرز پر بحال کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں بھی روایتی ہنر، ثقافتی ورثہ اور جدید تعلیم کو یکجا کیا جا سکے۔

تاریخی ورثے کی نئی زندگی

ماہرین کے مطابق تقریباً 2 دہائیاں قبل جو شاہی محل ہمیشہ کے لیے فروخت ہو کر بکھرنے والا تھا وہ آج برطانیہ کے منفرد ترین تاریخی اور تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

ڈمفریز ہاؤس اب صرف ایک شاہی محل نہیں بلکہ اس بات کی مثال بن چکا ہے کہ اگر تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے تعلیم، روزگار اور مقامی ترقی کو ساتھ جوڑا جائے تو ایک فراموش شدہ مقام بھی نئی زندگی حاصل کر سکتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق

Read More

سانحہ گُل پلازہ: 61 ہلاکتوں کی تصدیق، 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ آپریشن کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے

Read More

TECHNOLOGY

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت پہلی بار کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون منعقد

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت ملک میں پہلی بار تین روزہ ہیکاتھون نیشنل سینٹر فار

Read More

کوڈنگ کرنے والے نیا کیریئر ڈھونڈ لیں‘، اے آئی انقلاب کے بعد وارننگ جاری

ٹیک کمپنیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ملازمین کی نوکریاں ختم

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.