ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں امام رضا کے مزار میں کر دی گئی ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی وصیت اور رشتہ داروں کی تجویز کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔
مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ ایران آنے والے 90 فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں ادا کردی گئی، امام رضا کے مزار کے احاطے میں نماز جنازہ آیت اللہ نوری ہمدانی نے پڑھائی جب کہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
اس موقع پر شرکا نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم لہرائے جب کہ شرکا نے رہنماؤں کی تصاویر اورایرانی پرچموں کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی تھام رکھے تھے۔
نمازجنازہ کے موقع پر بھی فضا انتقام، انتقام کے نعروں سے گونج اٹھی جب کہ جلوس جنازہ کے شرکا نے ٹرمپ ہم تمہیں ماردیں گے کا قد آوربینر تھام رکھا تھا۔



































