اوپن اے آئی ٹوکنز کی قیمتیں کم کرے گا؟ اے آئی مارکیٹ میں ہلچل

اوپن اے آئی مبینہ طور پر اپنی اے آئی سروسز کے استعمال پر وصول کیے جانے والے ٹوکنز کی قیمتوں میں نمایاں کمی پر غور کر رہا ہے۔

اس پیشرفت کا مقصد یہ ہے کہ کاروباری شعبے میں اوپن اے آئی وہ رفتار دوبارہ حاصل کر سکے جو حالیہ عرصے میں اینتھروپک کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ اقدام اے آئی صنعت میں وسیع پیمانے پر قیمتوں کی جنگ کا آغاز کر سکتا ہے اور کمپنیوں کے اے آئی بجٹ بنانے کے انداز کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی ٹوکنز کی لاگت کم کرنے پر غور کر رہا ہے، ٹوکنز وہ بنیادی اکائی ہیں جن کی بنیاد پر اے آئی سروسز کے استعمال کی پیمائش اور بلنگ کی جاتی ہے۔

یہ غور و فکر اینتھروپک کی جانب سے متوقع اسی نوعیت کے فیصلے کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے۔

اینتھروپک نے اپنی سروسز کے آغاز کے چند ہی ماہ میں کاروباری صارفین کے درمیان نمایاں مقبولیت حاصل کر لی ہے۔

اس کامیابی کی بڑی وجہ اس کا کلاڈ کوڈ پلیٹ فارم ہے، جسے پروگرامرز نے خاصی پذیرائی دی۔

اسی مقبولیت کے باعث ایک مرحلے پر اینتھروپک کی مارکیٹ ویلیو اوپن اے آئی سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔

اس صورتِ حال کے جواب میں اوپن اے آئی نے بھی اپنی توجہ دوبارہ سافٹ ویئر ڈویلپرز اور کوڈنگ ٹولز کی جانب مرکوز کر دی ہے۔

کارپوریٹ اداروں کے لیے ٹوکنز کے استعمال کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے، خصوصاً ان کمپنیوں کے لیے جو کوڈنگ اسسٹنٹس، خودکار ایجنٹس اور ایسی پیداواری صلاحیت بڑھانے والی ایپلی کیشنز استعمال کرتی ہیں جن کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ وسائل درکار ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے کاروباری صارفین اب اپنی اے آئی سرمایہ کاری کے ریٹرن آن انویسٹمنٹ یا منافع بخش نتائج کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔

یہ مسئلہ ‘ٹوکن میکسنگ’ کے تصور پر ہونے والی بحث میں بھی سامنے آیا، جس سے مراد پیداواری صلاحیت بڑھانے کی خاطر زیادہ سے زیادہ ٹوکن استعمال کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے حاصل ہونے والا مالی فائدہ واضح نہ ہو

اگرچہ ٹوکنز کی قیمتوں میں کمی اس مسئلے کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے، تاہم سرمایہ کاری پر حقیقی منافع حاصل کرنے کا بنیادی سوال بدستور برقرار رہے گا۔

اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں نے اپنے ماڈلز کی تربیت اور انہیں بڑے پیمانے پر صارفین تک پہنچانے کے لیے درکار انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

ایسے میں مزید قیمتوں میں کمی مستقبل میں ان کمپنیوں کے منافع کے مارجن پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

TECHNOLOGY

چینی کمپنی گی اسپیِس اور پاک سیٹ کے درمیان سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کے فروغ کا معاہدہ

چین کی کمرشل اسپیس کمپنی گی اسپیِس نے پاکستان کی سیٹلائٹ کمیونیکیشن آپریٹر پاک سیٹ

Read More

پی ٹی اے نے 6 ماہ سے غیر فعال موبائل سمز کی بندش کے بارے میں خبردار کردیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 6 ماہ سے غیر فعال موبائل سمز

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.