عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی معاشی ترقی کورونا وبا کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ سکتی ہے۔ ادارے نے توانائی کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی اور قرض لینے کی بلند لاگت کے باعث 2026 کے لیے عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی کم کر دی ہے۔
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی شرح نمو کا اندازہ 2.9 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے توانائی کی فراہمی اور عالمی سپلائی چینز پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں مزید بڑھیں تو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، جو تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کا اہم راستہ ہے، نے توانائی کے شعبے میں شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق رواں سال خام تیل کی عالمی قیمت اوسطاً 94 ڈالر فی بیرل تک رہ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 36 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں عالمی مہنگائی 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ توانائی کے بحران میں شدت آنے پر معاشی ترقی کی شرح مزید گر کر 1.3 فیصد تک آ سکتی ہے۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو گزشتہ برسوں میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم موجودہ بحران میں سب سے بڑا امتحان عوام کا تحفظ، معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع برقرار رکھنا ہے۔
عالمی بینک نے مشرق وسطیٰ کے تنازع سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے 60 ارب ڈالر تک امداد مختص کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں یہ رقم 100 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔




































