آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجویز زیر غور، مہتاب حیدر

وفاقی حکومت آج مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرے گی جس میں تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور کارپوریٹ سیکٹر کو ریلیف دینے سے متعلق متعدد تجاویز متوقع ہیں

ماہرِ معیشت اور سینیئر صحافی مہتاب حیدر کے مطابق بجٹ سازی کے عمل میں حکومت کو اس وقت ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی جب صوبوں نے تقریباً 920 ارب روپے کا اضافی سرپلس وفاق کو منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان کے بقول اگر یہ مالی گنجائش دستیاب نہ ہوتی تو بجٹ کی سمت مختلف ہو سکتی تھی، تاہم اضافی مالی اسپیس ملنے کے بعد حکومت کو بعض شعبوں میں ٹیکس ریلیف دینے کا موقع ملا ہے۔

مہتاب حیدر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل اور متوسط آمدنی والے طبقے کے ٹیکس میں تقریباً 5 فیصد کمی کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ بعض آمدنی کے درجوں میں اس سے بھی زیادہ ریلیف دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 8 سے 10 فیصد اضافے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کاروباری برادری، رسمی کارپوریٹ سیکٹر اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے کے لیے بھی بعض ٹیکسوں میں نرمی پر غور کر رہی ہے، تاہم ان اقدامات کی حتمی منظوری کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 14.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف دیے جانے کا امکان ہے، جسے حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔

آٹو سیکٹر کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر دی گئی ٹیکس مراعات ختم ہونے کے بعد ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ جبکہ سولر پینلز پر عائد 10 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ تقریر میں متوقع ہے۔

معاشی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے مہتاب حیدر نے کہا کہ حکومت رواں مالی سال کے 4.2 فیصد شرحِ نمو کے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور ابتدائی اندازوں کے مطابق معاشی نمو 3.7 فیصد رہی۔ ان کے مطابق سرحدی کشیدگی، سیلابی صورتحال اور خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی تناؤ جیسے عوامل نے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد حالیہ مہینوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں افراطِ زر ایک بار پھر دو ہندسوں میں داخل ہو گئی۔ ان کے بقول اس صورتحال کے اثرات پالیسی ریٹ، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ فائرنگ، قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید

آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم قرار دی

Read More

فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شامل ہونے سے چھوٹے دکانداروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

حکومت نے ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک آسان ٹیکس نظام متعارف کرا

Read More

TECHNOLOGY

حکومت کا 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دینے کا اعلان

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (آئی ٹی ) شزا فاطمہ خواجہ نے

Read More

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

مکہ مکرمہ کی مایہ ناز اور تاریخی درسگاہ ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ کے کلچرل فرنٹ نے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.