مصنوعی ذہانت یا اے آئی اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے جو چند سال پہلے تک سائنس فکشن فلموں کا موضوع سمجھا جاتا تھا کہ کیا مستقبل کی جنگیں انسانوں کے بجائے انسان نما روبوٹس لڑیں گے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم ایک نئی ٹیکنالوجی کمپنی ’فاؤنڈیشن روبوٹکس‘ اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔ کمپنی نے فینٹم نامی ایک انسان نما روبوٹ تیار کیا ہے جسے مستقبل میں فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکا میں ان چند اداروں میں شامل ہے جو خاص طور پر دفاعی شعبے کے لیے انسان نما روبوٹس تیار کر رہے ہیں۔
کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو سنکیت پاٹھک کے مطابق ان کا مقصد ایسے روبوٹس بنانا ہے جو خطرناک مشنوں میں انسانی فوجیوں کی جگہ لے سکیں اور جنگی کارروائیوں میں جانی نقصان کم کرنے میں مدد دیں۔
موجودہ روبوٹ کی صلاحیتیں اور محدودیت

فینٹم کا موجودہ ماڈل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ یہ تقریباً 80 کلوگرام وزنی اسٹیل سے ڈھکا ہوا روبوٹ ہے تاہم اس میں اب بھی کئی خامیاں موجود ہیں۔
اس وقت فینٹم کے پاس مستقل بیٹری موجود نہیں یہ مکمل طور پر واٹر پروف یا دھول سے محفوظ نہیں اور اگر گر جائے تو خود دوبارہ کھڑا ہونے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ اس کے ہاتھ بھی ابھی اتنے مضبوط اور مہارت رکھنے والے نہیں کہ پیچیدہ آلات یا ہتھیار مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ فینٹم ایم کے-2 نامی اگلا ماڈل پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوگا۔ اسے بارش، گردوغبار اور سخت موسمی حالات میں کام کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے جبکہ ایک بڑی بیٹری اسے تقریباً 6 گھنٹے تک مسلسل کام کرنے کی صلاحیت دے گی۔ نئے روبوٹ میں بہتر ہاتھ اور کلائیاں بھی نصب کی جائیں گی تاکہ وہ مختلف اوزار اور ممکنہ طور پر ہتھیار استعمال کر سکے۔
فوجی استعمال کے ممکنہ شعبے
کمپنی کے مطابق ان روبوٹس کا مقصد صرف جنگ لڑنا نہیں بلکہ مختلف معاون فوجی فرائض انجام دینا بھی ہے۔

انسان نما روبوٹس کو مستقبل میں جن کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ان میں خطرناک علاقوں میں جاسوسی اور نگرانی، جنگی میدان سے زخمی فوجیوں کا انخلا، بارودی سرنگوں یا خطرناک مواد کا معائنہ، سامان اور رسد کی ترسیل، تباہ شدہ فوجی آلات کی بازیابی، عمارتوں کی تلاشی اور شہری جنگی ماحول میں کارروائیاں شامل ہیں۔
سنکیت پاٹھک کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس فوجیوں کو ان مقامات پر بھیجنے کی ضرورت کم کر سکتے ہیں جہاں موت یا شدید زخمی ہونے کا خطرہ زیادہ ہو۔
مصنوعی ذہانت کیسے کام کرے گی؟
فینٹم روبوٹ کو چلانے کے لیے کورٹیکس نامی مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام 2 مختلف قسم کے اے آئی ماڈلز پر مشتمل ہے۔
پہلا ماڈل روبوٹ کو دیے گئے ہدف یا مشن کو سمجھتا ہے اور اس کے مطابق منصوبہ بندی کرتا ہے جبکہ دوسرا ماڈل اردگرد کے ماحول کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتا ہے کہ مختلف حرکات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔
فینٹم کے ہیلمٹ میں نصب کیمرے اسے 360 درجے تک دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اسی معلومات کی بنیاد پر روبوٹ اپنے راستے کا تعین کرتا اور حالات کے مطابق فیصلے لیتا ہے۔
کمپنی اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ ویڈیوز، تصاویر، متن اور روبوٹ کے حقیقی دنیا میں تجربات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو استعمال کر رہی ہے۔
امریکا اور یوکرین میں آزمائش
فاؤنڈیشن روبوٹکس کے مطابق کمپنی کو امریکی فوج کے ساتھ تقریباً 24 ملین ڈالر کے تحقیقی معاہدے حاصل ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے دو روبوٹس اس وقت یوکرین میں آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ امریکی فوج بھی مختلف شعبوں میں ان کی جانچ کر رہی ہے۔
امریکا میں ہونے والی آزمائشیں فی الحال ہتھیار چلانے تک محدود نہیں تاہم یوکرین میں روبوٹ کے ممکنہ عسکری استعمال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کمپنی اس وقت تک سالانہ کم از کم 40 ہزار روبوٹس تیار کرنے کا ہدف رکھتی ہے اور مستقبل میں فی روبوٹ قیمت 20 ہزار ڈالر سے کم رکھنے کی خواہش ظاہر کر رہی ہے۔
چین اور امریکا کی نئی دوڑ
سنکیت پاٹھک کا خیال ہے کہ چین بھی تیزی سے اسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے اور امریکا و مغربی ممالک کی بھی کوشش ہے کہ وہ اس دوڑ میں پیچھے نہ رہیں۔

ان کے مطابق جس طرح آج جنگی میدان میں خودکار ڈرونز کا کردار بڑھ رہا ہے اسی طرح مستقبل میں لاکھوں انسان نما روبوٹس زمینی فوجی قوت کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کے پاس ہزاروں یا لاکھوں خودکار روبوٹس موجود ہوں تو یہ دشمن کے لیے ایک مضبوط دفاعی رکاوٹ اور جنگ سے باز رکھنے والا عنصر بن سکتا ہے۔
ماہرین کے شکوک و شبہات
تمام ماہرین اس تصور سے متفق نہیں۔ روبوٹکس کے شعبے سے وابستہ ماہر ڈین فانکھاؤزر کا کہنا ہے کہ موجودہ انسان نما روبوٹس ابھی اتنے قابل نہیں ہوئے کہ حقیقی میدان جنگ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
ان کے مطابق آج کے بیشتر تجارتی ہیومنائیڈ روبوٹس گوداموں میں سامان اٹھانے اور رکھنے جیسے سادہ کاموں میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر آج کسی بڑے جنگی تنازعے میں انسان نما روبوٹس کو مکمل جنگی کردار دیا جائے تو ان کی کامیابی کا امکان بہت محدود ہوگا۔
ان کے خیال میں اگلے 5 یا 10 سال میں صورت حال بدل سکتی ہے لیکن موجودہ مرحلے میں یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی دور میں ہے۔
جنگی ماحول میں روبوٹس کو درپیش بڑے چیلنجز

فلوریڈا انسٹیٹیوٹ فار ہیومن اینڈ مشین کاگنیشن کے ماہر رابرٹ گرفن کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ روبوٹ چل سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ غیر متوقع حالات سے کیسے نمٹے گا۔
مثال کے طور پر اگر روبوٹ کو کسی عمارت میں داخل ہونا ہو، کھڑکی سے چھلانگ لگانی ہو، ناہموار زمین پر اترنا ہو اور فوراً نئی صورتحال کا جائزہ لینا ہو تو یہ سب انسان کے لیے نسبتاً آسان لیکن روبوٹ کے لیے انتہائی پیچیدہ کام ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی نظام اب بھی کھلے اور غیر متوقع ماحول سے نمٹنے میں محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔
انسان ابھی بھی زیادہ ذہین
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی ذہانت کی سب سے بڑی خوبی اس کی غیر متوقع صورتحال میں فوری ردعمل دینے کی صلاحیت ہے۔
ماضی میں تجربات کے دوران فوجیوں نے بعض اے آئی سسٹمز کو انتہائی سادہ طریقوں سے الجھا دیا مثلاً غیر معمولی حرکات کرنا یا اپنے اوپر کارڈ بورڈ باکس رکھ لینا۔
ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب بھی انسانی فہم اور حالات کے ادراک سے کافی پیچھے ہے۔
اخلاقی اور قانونی خدشات
انسان نما جنگی روبوٹس کے حوالے سے سب سے بڑی بحث اخلاقیات کے میدان میں ہو رہی ہے۔
اسٹاپ کلر روبوٹس نامی عالمی مہم کی سربراہ نکول وان روئیجن کے مطابق خودکار ہتھیار جنگ کے فیصلوں سے انسانی عنصر کو کمزور کر سکتے ہیں اور ذمہ داری کے تعین کو مشکل بنا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق جب ایک مشین جان لیوا فیصلہ کرے گی تو یہ طے کرنا مشکل ہو جائے گا کہ کسی غلطی یا انسانی نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
وہ عالمی سطح پر ایسے قوانین اور ضابطوں کا مطالبہ کر رہی ہیں جو خودکار قاتل ہتھیاروں کے استعمال کو محدود یا منظم کر سکیں۔
مستقبل کی جنگ یا سائنس فکشن؟

اگرچہ انسان نما روبوٹ فوجی دستوں کا تصور اب بھی کسی حد تک سائنس فکشن محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، خودکار ڈرونز اور روبوٹکس پہلے ہی جدید جنگوں کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
فاؤنڈیشن روبوٹکس اور دیگر کمپنیوں کی پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں جنگی میدان صرف انسانوں کا نہیں رہے گا۔
تاہم یہ سوال ابھی بھی کھلا ہے کہ کیا انسان نما روبوٹس واقعی فوجیوں کی جگہ لے سکیں گے یا وہ صرف معاون کردار تک محدود رہیں گے۔
فی الحال ایک بات واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور آنے والی دہائیوں میں جنگ کی شکل آج کے مقابلے میں بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔




































