اے آئی کی مدد سے پہلی ویکسین تیار، وباؤں کے خلاف جنگ میں بڑی پیشرفت

سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک ایسی نئی قسم کی ویکسین تیار کی ہے جو نہ صرف کوویڈ کی مختلف اقسام بلکہ کورونا وائرس کے پورے خاندان کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دنیا کی پہلی ویکسین ہے جس کا بنیادی جزو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت نے ڈیزائن کیا اور بعد ازاں اسے انسانوں پر آزمایا گیا۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں ایسی وباؤں کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے نئے وائرسز کے باعث جنم لے سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن محققین اسی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر فلو، برڈ فلو اور ایبولا جیسی بیماریوں کے خلاف بھی نئی ویکسینز تیار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق روایتی ویکسینز موجودہ وائرس کی کسی مخصوص قسم کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہیں لیکن بعض وائرسز مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جس کے باعث ویکسینز وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوویڈ اور موسمی فلو کی ویکسینز کو بار بار اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر جوناتھن ہینی کا کہنا ہے کہ سائنسدان ہمیشہ وائرسز کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں لیکن اب مقصد یہ ہے کہ آئندہ آنے والے خطرات سے پہلے ہی نمٹنے کی تیاری کر لی جائے۔

ان کے مطابق یہ طریقہ کار وباؤں سے نمٹنے کی حکمت عملی میں ایک بنیادی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔

ویکسین کیسے تیار کی گئی؟

محققین نے مختلف اقسام کے کورونا وائرسز کے جینیاتی کوڈز جمع کیے، جنہیں نگرانی کے عالمی پروگراموں کے ذریعے ممکنہ وبائی خطرات کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان جینیاتی معلومات کا تجزیہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا۔

’وائرس اب شکل بدل کر بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا‘

مصنوعی ذہانت نے ان معلومات کی بنیاد پر ایک ایسا ’سپر اینٹیجن‘ تیار کیا جو انسانی مدافعتی نظام کو کورونا وائرس کے پورے خاندان کے خلاف تربیت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے چاہے وائرس میں بعد میں تبدیلیاں آ جائیں یا کوئی نیا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو جائے۔

اینٹیجن ویکسین کا وہ اہم جزو ہوتا ہے جسے مدافعتی نظام پہچان کر اس کے خلاف دفاعی ردعمل تیار کرتا ہے۔

پروفیسر ہینی کے مطابق پہلی مرتبہ کسی ایسے اینٹیجن کو انسانوں پر آزمایا گیا ہے جسے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت نے ڈیزائن کیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی سائنسدانوں کو بھی حیران کر رہی ہے اور انسانیت کے لیے اس کے امکانات انتہائی امید افزا ہیں۔

ابتدائی انسانی آزمائش

اس ویکسین کا ابتدائی تجربہ 39 افراد پر کیا گیا جس کا مقصد اس کی حفاظت اور ابتدائی اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ اس کے بعد تقریباً 200 افراد پر مشتمل ایک دوسرا مطالعہ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ویکسین مدافعتی نظام کو کس حد تک مؤثر انداز میں متحرک کرتی ہے۔

جرنل آف انفیکشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ویکسین سے مدافعتی ردعمل معتدل نوعیت کا تھا تاہم سائنسدان اس کے نتائج کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے پروفیسر ساؤل فاسٹ جنہوں نے بعض تجربات میں حصہ لیا کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی وبائی امراض کے خلاف ویکسین سازی میں بڑی پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے خصوصاً ایسے وائرسز کے خلاف جو تیزی سے اپنی شکل تبدیل کرتے ہیں۔

فلو اور ایبولا کے خلاف بھی تحقیق

کیمبرج کی ٹیم اب ایسی یونیورسل فلو ویکسین پر کام کر رہی ہے جسے ہر سال تبدیل کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ اس کے علاوہ ایچ فائیو این ون برڈ فلو کے خلاف بھی تحقیق جاری ہے تاکہ اگر یہ وائرس انسانوں میں وسیع پیمانے پر پھیلنا شروع کرے تو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

محققین ایبولا سمیت خون بہنے والے مہلک بخاروں کے خلاف بھی ویکسینز تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی ایک ایسی قسم پھیل رہی ہے جس کے لیے ابھی تک کوئی مخصوص ویکسین دستیاب نہیں۔

مصنوعی ذہانت ویکسین سازی میں گیم چینجر؟

آکسفورڈ ویکسین گروپ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈی پولارڈ کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ویکسین کی تحقیق اور تیاری کے عمل کو یکسر بدل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اے آئی سائنسدانوں کو یہ پیشگوئی کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ انسانی مدافعتی نظام کسی نئی ویکسین پر کس طرح ردعمل ظاہر کرے گا جس سے تحقیق کا عمل تیز اور زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔

برطانیہ کے سائنس وزیر لارڈ ویلنز نے اس پیشرفت کو برطانوی سائنس کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور طبی تحقیق کا امتزاج دنیا بھر کے لوگوں کے لیے نئی اور بہتر ویکسینز کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوئی تو مستقبل میں ایسی ویکسینز تیار کی جا سکیں گی جو صرف موجودہ بیماریوں ہی نہیں بلکہ آئندہ پیدا ہونے والی وباؤں سے بھی انسانوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

Share On Social Media

KARACHI

سانحہ گل پلازہ میں اموات کی تعداد 67 ہوگئی، 62 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے

Read More

کراچی میں بارش کے بعد موسم انتہائی سرد، یخ بستہ ہواؤں سے پارہ سنگل ڈیجیٹ میں ریکارڈ

شہر قائد میں گزشتہ روز کی موسلادھار بارش کے بعد یخ بستہ ہواؤں سے موسم

Read More

TECHNOLOGY

اردو کے فروغ کے لیے پاکستان کا نیا قدم، اے آئی سافٹ ویئر ’گرامورا‘ تیار

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اردو زبان کے فروغ اور اسے جدید ٹیکنالوجی سے ہم

Read More

اوورسیز پاکستانی اور غیرملکی، پاکستان میں کتنے دن ذاتی فون ٹیکس فری استعمال کرسکتے ہیں؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اوورسیز پاکستانیوں اور غیر ملکی شہریوں کے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.