عیدالاضحیٰ کے موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی ’گو کیش لیس‘ مہم کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں اربوں روپے کا لین دین آن لائن ذرائع سے انجام پایا، جبکہ ہزاروں افراد نے پہلی بار بینک اکاؤنٹس بھی کھلوائے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران ملک بھر میں جاری ’گو کیش لیس‘ مہم کے تحت ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مرکزی بینک کے مطابق ملک کی 123 مویشی منڈیوں میں اس مہم کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 34 ارب روپے مالیت کی تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز مکمل ہوئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مویشی منڈیوں میں خریداروں اور بیوپاریوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں کی موبائل گاڑیاں منڈیوں میں موجود رہیں، جہاں صارفین کو فوری بینکنگ خدمات، کیو آر کوڈز کی فراہمی، اے ٹی ایم اور کیش ڈپازٹ مشینوں کی سہولت دستیاب تھی۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال عیدالاضحیٰ کے دوران 4.6 ارب روپے کا ڈیجیٹل لین دین ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ اس سال یہ حجم بڑھ کر 34 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو تقریباً 7 گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ مہم کے دوران 12 ہزار 500 نئے بینک اکاؤنٹس بھی کھولے گئے، جس سے ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ’گو کیش لیس‘ مہم کا مقصد نقد رقم پر انحصار کم کرنا، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینا اور مالیاتی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران حاصل ہونے والے مثبت نتائج مستقبل میں ڈیجیٹل بینکاری کے مزید فروغ کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوں گے۔




































