آزادکشمیر:27جولائی کو انتخابات،9جون کو احتجاج کی کال،عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

 آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27جولائی کو ہونگے ، الیکشن کمیشن نے باضابطہ انتخابی شیڈول جاری کر دیا ، عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی سیاسی صورتحال مزید اہم رخ اختیار کر گئی ، ایک جانب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کا شیڈول جاری کیا دوسری جانب حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 9 جون کے  اعلان کردہ احتجاج کے تناظر میں سخت موقف اختیار کر لیا نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر ایکشن کمیٹی ، جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ناموں سے کام کرنے والی تنظیم کو فرسٹ شیڈول میں شامل کردیا گیا ،جبکہ حکومت نے سیاحوں کو بھی 20 جون تک آزاد کشمیر کا سفر مؤخر کرنے کی ایڈوائزری بھی جاری کر دی گئی ،الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ مظفرآباد سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے تمام حلقوں میں انتخابات 27 جولائی 2026 کو ہوں گے ، امیدوار 9 جون سے 19 جون تک کاغذات نامزدگی متعلقہ ریٹرننگ افسران کے پاس جمع کرا سکیں گے ۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 20 جون کو ہوگی اور اسی روز درست نامزدگیوں کی فہرست جاری کی جائے گی۔مسترد شدہ کاغذات نامزدگی کے خلاف اپیلیں 21 سے 24 جون تک الیکشن کمیشن میں دائر کی جا سکیں گی، جبکہ ان پر اپیلوں کی سماعت 26 اور 27 جون کو ہوگی۔ اپیلوں پر حتمی فیصلے 28 اور 29 جون کو سنائے جائیں گے ۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے ۔ امیدواروں کی حتمی فہرست یکم جولائی کو شائع ہوگی جبکہ 2 جولائی کو انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں گے اور امیدواروں کی حتمی فہرست بھی جاری کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ 27 جولائی کو صبح 8 سے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔ 33 انتخابی حلقوں کے لئے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران بھی تعینات کر د ئیے گئے ہیں۔ ان تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کے سیکشن 32 کی شق (1) اور (2) کے تحت جاری کیا گیا ، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کو منظم، شفاف اور مؤثر بنانے کے لئے تمام ضروری انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب آزاد حکومت کے محکمہ داخلہ نے ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، عوامی ایکشن کمیٹی اور ان کے دیگر متبادل ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں کو آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ،محکمہ داخلہ کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر کی منظوری کے بعد تنظیم کو پروسکرائبڈ آرگنائزیشن قرار دیا گیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے پاس ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر تنظیم ریاست میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے ، انتشار پھیلانے ، عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھانے میں ملوث پائی گئی۔ تنظیم پر نفرت انگیزی کو فروغ دینے اور ریاستی امن و نظم کو متاثر کرنے کے الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں۔محکمہ داخلہ نے تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کی سیکشن 12 کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تنظیم اور اس کے تمام متبادل ناموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کی نقول تمام وزراء، وفاقی وزارت داخلہ، صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری، متعلقہ سیکرٹریز، تمام ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں جبکہ مظفرآباد، پونچھ اور میرپور ڈویژنز کی انتظامیہ اور پولیس حکام کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ادھر آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے ۔ حکومت نے مذاکرات، ریلیف اور عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا لیکن کمیٹی نے لچک کے بجائے دباؤ اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔ ترجمان کے مطابق 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد نہیں بلکہ سیاسی ضد ہے ۔ترجمان نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے ، تاہم قانون ہاتھ میں لینے ، راستے بند کرنے اور عوامی زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کی عدم تکمیل پر 9 جون کو پورے آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی ہے ۔ احتجاجی کال کے پیش نظر آزاد کشمیر میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر د ئیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کی 1500 سے زائد نفری آزاد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اسلام آباد پولیس کی ریزرو فورس بھی تعیناتی کے لیے تیار رکھی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی جی آزاد کشمیر نے وفاقی حکومت کو ارسال کردہ مراسلے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 14 ہزار اضافی اہلکاروں کی فراہمی کی درخواست بھی کی تھی۔ احتجاج کے اعلان کے پیش نظر آزاد کشمیر حکومت نے سیاحوں کے لیے خصوصی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ سیاح 9 جون سے قبل آزاد کشمیر سے واپسی یقینی بنائیں جبکہ جو افراد آزاد کشمیر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ 20 جون تک اپنا سفری پروگرام مؤخر کر دیں۔حکومت آزاد کشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی تنظیم یا گروہ کو عوامی امن، سلامتی اور ریاستی نظم و نسق کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے ۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی، خستہ حال سڑک کی ویڈیو بناتے ہوئے معروف یوٹیوبر کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا

شہر قائد میں معروف یوٹیوبر محسن اور ان کے کیمرہ مین کو فائیو اسٹار چورنگی

Read More

TECHNOLOGY

چینی کمپنی گی اسپیِس اور پاک سیٹ کے درمیان سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کے فروغ کا معاہدہ

چین کی کمرشل اسپیس کمپنی گی اسپیِس نے پاکستان کی سیٹلائٹ کمیونیکیشن آپریٹر پاک سیٹ

Read More

پی ٹی اے نے 6 ماہ سے غیر فعال موبائل سمز کی بندش کے بارے میں خبردار کردیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 6 ماہ سے غیر فعال موبائل سمز

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.