ٹرمپ کا ایران پالیسی پر یوٹرن: معاہدے پر تجاویز تبدیل کردیں؛ ‘ایران پر مزید حملوں کا امکان ختم’

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے موقف میں ایک اور یوٹرن لیا ہے اور تہران کو تبدیل شدہ سخت تجاویز ارسال کی ہیں۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان نئی اور سخت تجاویز کا بنیادی مقصد ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ کو مزید بڑھانا ہے۔

دوسری جانب نیوز سائٹ ’ایگزیوس‘ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سچوئیشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران ان تجاویز میں خود کئی اہم تبدیلیاں کرائی تھیں۔

ٹرمپ نے تجاویز میں کیا تبدیلیاں کیں، وہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عزم کے حوالے سے مزید سخت زبان شامل کرنے پر اصرار کیا ہے۔

خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں کو بھی ان مشاورتوں کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک غیر ملکی اہلکار نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ یہ تبدیلیاں بنیادی نوعیت کی نہیں ہیں بلکہ ان کا زیادہ تر مرکز اِن مسائل پر یقین دہانی حاصل کرنے کی امریکی خواہش ہے۔

ٹرمپ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کو کس قسم کا مالیاتی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ اوباما دور کے جوہری معاہدے کے تحت دیے جانے والے ”کیش کے کنٹینرز“ جیسے امداد کے موازنے سے بچنا چاہتے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ معاہدہ قریب ہونے کی وجہ سے اب مزید فوجی حملوں کا امکان نہیں ہے، اور خطے میں موجود اتحادی بھی نہیں چاہتے کہ جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوں۔

ان سخت تجاویز کے بھیجے جانے کے باوجود، صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حیران کن طور پر مثبت اشارے بھی دیے ہیں۔

انہوں پرامید لہجے میں کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی اچھی ڈیل طے نہ پائی تو دوبارہ فوجی آپریشن کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ تو ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی ایٹم بم خریدے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیل پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔

امریکی صدر کا ماننا ہے کہ اس وقت سارے پتے امریکا کے پاس ہیں اور ایران بہت بری پوزیشن میں ہے۔

ایران کی جانب سے ان بیانات پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی قسم کا کوئی حتمی تاثر قائم کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ محض قیاس آرائیاں ہیں، ان باتوں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔

دوسری طرف، ایرانی مذاکرات کار باقر قالیباف نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے پارلیمنٹ کے اجلاس سے ورچوئل خطاب میں صاف کہہ دیا کہ ٹھوس اور عملی اقدامات کے بغیر امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر اعتماد نہیں کرتے۔

Share On Social Media

KARACHI

میر رضا قتل کیس؛ تحقیقات کے حوالے سے پولیس کی جانب سے پہلی پریس ریلیز جاری

سندھ پولیس نے کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کے کیس میں تحقیقات

Read More

ایف پی سی سی آئی کا پاکستان–آسیان تجارت اور سرمایہ کاری میں مضبوط شراکت داری پر زور

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے آسیان

Read More

TECHNOLOGY

سوشل میڈیا پر حکومت مخالف بیانیہ پھیلانے والے سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے سول سروس کنڈکٹ رولز کی

Read More

اوپن اے آئی نے نوجوانوں کے لیے زیادہ محفوظ چیٹ جی پی ٹی متعارف کرا دیا

امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے منگل کو نوجوانوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.