اے آئی پر بڑھتا انحصار انسانی ذہانت کے لیے خطرہ بننے لگا، برطانوی سائنسی ادارہ

برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر بڑھتا ہوا انحصار انسانی ذہانت اور سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔

سائنسی ادارے رائل آبزرویٹری گرین وچ کے مطابق فوری جوابات حاصل کرنے کی عادت انسانوں میں تجسس، تحقیق اور گہرے غور و فکر کی صلاحیت کو کمزور بنا سکتی ہے۔

برطانیہ کے قدیم ترین سائنسی اداروں میں شمار ہونے والے رائل آبزرویٹری گرین وچ کا کہنا ہے کہ پیچیدہ مسائل کے حل اور مشکل سوالات کے فوری جواب کے لیے اے آئی ٹولز پر حد سے زیادہ انحصار انسانوں کو کم ذہین بنا سکتا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر پیڈی راجرز نے کہا کہ اگر لوگ صرف فوری جوابات پر انحصار کریں گے تو سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور معلومات کو جانچنے کی وہ عادت ختم ہو سکتی ہے جو علم، مہارت اور ایجادات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رائل آبزرویٹری کا فرسٹ لائٹ منصوبہ 350 سالہ فلکیاتی تحقیق اور شوق کو جدید سائنسی دریافتوں سے جوڑنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

پیڈی راجرز کے مطابق ٹیکنالوجی نے سائنس میں بے شمار اہم کامیابیاں ممکن بنائی ہیں تاہم انسانی تجسس کا کوئی متبادل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی تجسس انسان کو نئے سوالات دریافت کرنے اور منفرد حل تلاش کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اے آئی ٹولز پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی ذہانت کو متاثر کر سکتا ہے لیکن دوسری جانب مصنوعی ذہانت سائنسی رازوں سے پردہ اٹھانے اور تحقیق میں مدد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے

کراچی کے پرہجوم تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگی آگ تو بجھ گئی، لیکن اس

Read More

کراچی میں 100 سے زائد بچوں سے بدفعلی کرنے والا ’سیریل ریپسٹ‘ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کراچی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی میں

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ بدلنے جارہا ہے، صارفین کے لیے پریمیم فیچرز کا اعلان

واٹس ایپ ایک نئے اختیاری پریمیم سبسکرپشن پلان پر کام کررہا ہے، جس کے تحت

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.