اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ترقی پر ماہرین نے دنیا کو خبردار کردیا

تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اے آئی انسانوں کی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے، جبکہ اس کی حفاظت اور کنٹرول کے لیے درکار سائنسی فہم اور نظام اتنی تیزی سے تیار نہیں ہو رہے۔ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال معاشرے، معیشت اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ترقی اب محض ایک سائنسی کامیابی نہیں رہی بلکہ یہ انسانی معاشرے کے مستقبل سے جڑا ایک سنجیدہ معاملہ بنتی جا رہی ہے۔ دی گارجین کے مطابق ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اے آئی جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، انسان شاید اس کے خطرات کو سمجھنے اور قابو میں رکھنے کے لیے مطلوبہ وقت حاصل نہ کر سکے۔

جدید اے آئی نظام اب ایسے کام انجام دینے لگے ہیں جو پہلے صرف ماہر انسان ہی کر سکتے تھے۔ تحقیق، تجزیہ، منصوبہ بندی اور تکنیکی فیصلے جیسے شعبوں میں مشینیں نہ صرف تیز ہو رہی ہیں بلکہ کئی معاملات میں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہو رہی ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو چند ہی برسوں میں معاشی طور پر اہم کاموں کی بڑی ذمہ داری انسانوں کے بجائے مشینوں کے پاس چلی جائے گی۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اے آئی طاقتور ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس طاقت کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانے کا علم اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر پا رہا۔

حکومتیں اور ادارے اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جدید نظام خودبخود درست فیصلے کریں گے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی مکمل جانچ اور اعتماد کے لیے درکار سائنسی بنیاد ابھی کمزور ہے۔ معاشی دباؤ کے باعث نئی ٹیکنالوجی کو جلد از جلد استعمال میں لایا جا رہا ہے، جبکہ حفاظتی پہلو پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مکمل تحفظ ممکن نہ ہو تو کم از کم نقصانات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں ضرور کی جانی چاہئیں۔ خاص طور پر توانائی، مواصلات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر میں اے آئی کے استعمال کے لیے اضافی نگرانی اور کنٹرول ناگزیر ہے۔

برطانیہ کی تحقیقی ایجنسی ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ انوینشن ایجنسی کے اے آئی سیفٹی ماہر ڈیوڈ ڈیلرمپل کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور حکومتیں اس کی حفاظت کے حوالے سے پیچھے رہتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں زیادہ تر معاشی طور پر قیمتی کام مشینیں انسانوں سے بہتر اور کم لاگت میں انجام دیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جدید اے آئی نظاموں کو قابلِ اعتماد سمجھنا خطرناک ہو سکتا ہے، اس لیے ان کے نقصانات کو کنٹرول اور کم کرنے پر فوری توجہ ضروری ہے۔

برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اے آئی ماڈلز کی کارکردگی بعض شعبوں میں ہر آٹھ ماہ میں دوگنی ہو رہی ہے، اور کچھ جدید نظام نہ صرف پیچیدہ کام خود مختار طور پر انجام دے سکتے ہیں بلکہ اپنی نقل بنانے کی صلاحیت بھی دکھا رہے ہیں، اگرچہ روزمرہ حالات میں بدترین منظرنامے کا امکان کم ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ جلد ہی اے آئی تحقیق اور ترقی کے عمل میں خود اپنا کردار ادا کرنے لگے گی، جس سے اس کی صلاحیتوں میں مزید تیزی آئے گی۔ کچھ لوگ اسے ترقی اور نئے مواقع کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر اسے انسانی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج اور امتحان تصور کرتے ہیں۔

مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت نہ صرف انسانی کام کرنے کی صلاحیتوں کو بدل رہی ہے بلکہ معاشرے، معیشت اور عالمی سلامتی کے لیے نئے چیلنج بھی پیدا کر رہی ہے۔ وقت پر حفاظتی اقدامات اور مؤثر نگرانی کے بغیر یہ خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس لیے ماہرین زور دے رہے ہیں کہ انسان بیداری، فہم اور ذمہ داری کے ساتھ اس تبدیلی کا سامنا کرے تاکہ اے آئی کی ترقی کو فائدے میں بدلتے ہوئے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

Share On Social Media

KARACHI

پنکی کیس: تھانے کی ویڈیو غائب، خواتین اہلکار کلیئر، ایس ایچ او کا کردار مشکوک

کراچی میں ہائی پروفائل انمول عرف پنکی کیس کی تفتیش میں انتہائی سنسنی خیز اور

Read More

کراچی میں ایک اور منشیات سپلائی نیٹ ورک بے نقاب، خاتون سمیت 3 افراد گرفتار

کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آئس اور ہیروئن کی سپلائی میں ملوث

Read More

TECHNOLOGY

پورے ملک کے لیے ‘چیٹ جی پی ٹی پلس’ مفت کرنے کا اعلان

یورپی ملک مالٹا نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے

Read More

اے آئی پر بڑھتا انحصار انسانی ذہانت کے لیے خطرہ بننے لگا، برطانوی سائنسی ادارہ

برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر بڑھتا ہوا

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.