پاکستان اور عراق کا خاموشی سے ایران کے ساتھ تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا معاہدہ: رائٹرز کا دعویٰ

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے، جس کے باعث خلیج فارس سے ہونے والی تیل اور گیس کی برامدات میں شدید کمی آئی ہے۔ اس بحرانی صورتحال میں پاکستان اور عراق نے ایران کے ساتھ خاموشی سے ایسے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت آبنائے ہرمز سے توانائی کے جہازوں کی بحفاظت ترسیل ممکن بنائی جا سکے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کے کلاڈیو اسٹیور نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بجائے وہاں تک رسائی کو کنٹرول کر رہا ہے، اور یہ راستہ اب کوئی غیر جانبدار تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک مکمل طور پر کنٹرول شدہ راہداری بن چکا ہے۔

رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، جو پہلے ہی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بجلی کی طلب میں اضافے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، اس نے تہران کے ساتھ ایک دو طرفہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے لدے دو بحری جہاز پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

رائٹرز نے توانائی انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ قطر اس دو طرفہ معاہدے میں براہِ راست شامل نہیں تھا، تاہم اس نے ان بحری جہازوں کی روانگی سے قبل امریکا کو مطلع کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ تیل اور گیس کی ترسیل کے عمل میں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ وہ اکثر شرائط بدل دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کام کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب عراق نے بھی تہران کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ معاہدے کے ذریعے اپنے دو بڑے بحری جہازوں کے لیے راستہ صاف کروا لیا ہے جو اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، عراق اپنی آمدنی کے لیے 95 فیصد تیل کی برامدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے وہ اب مزید جہازوں کے لیے ایران سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، عراقی وزارتِ تیل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ عراق ایران کا قریبی اتحادی ہے اور عراق کی معیشت میں کسی بھی قسم کی گراوٹ ایران کے معاشی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔

اس عمل کو سہل بنانے کے لیے عراقی حکام ایرانی حکام کو ہر بحری جہاز کی منزل، ملکیت اور سامان کی تفصیلات فراہم کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ نہ تو پاکستان اور نہ ہی عراق نے ان بحری جہازوں کے گزرنے کے بدلے میں ایران یا پاسدارانِ انقلاب کو کوئی براہِ راست رقم ادا کی ہے۔

تاہم، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر مزید ممالک نے ایران کے ساتھ اس قسم کے معاہدے شروع کر دیے تو اس سے یہ تاثر عام ہو جائے گا کہ آبنائے ہرمز پر مستقل بنیادوں پر ایران کا ہی کنٹرول رہے گا۔

مشاورتی فرم ایم ایس ٹی مارکی کے ریسرچ ہیڈ ساؤل کاوونک کا کہنا ہے کہ حکومتوں کے ایران کے ساتھ معاہدوں سے اس بات کے معمول بننے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ ایران مستقل طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرے گا۔

ساؤل کوونک کے مطابق، جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے ماہانہ 3 ہزار بحری جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 5 فیصد رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں 35 سے 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی اور سیلانی میں مفاہمت

ملک میں اعلی تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش

Read More

امریکا ایران مذاکرات: امریکی سیکیورٹی ٹیم کے خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے

پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور کے سلسلے میں

Read More

TECHNOLOGY

دنیا کے سب سے خطرناک اے آئی ماڈل تک انجان شخص کی غیر قانونی رسائی، خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

مصنوعی ذہانت اے آئی کی دنیا سے ایک بڑی اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔

Read More

واٹس ایپ کی نیا پیڈ سبسکرپشن فیچر متعارف کرانے کی تیاری

انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا پیڈ سبسکرپشن فیچر متعارف

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.