دماغ جوان رکھنے کے 3 آسان طریقے، آج سے ہی شروع کرکے دیکھیں

ماہرین کے مطابق انسانی دماغ کو صحت مند اور فعال رکھنے کے لیے اسے مسلسل چیلنجز اور ذہنی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے تاہم اس کے لیے ہمیشہ مشکل یا تھکا دینے والی سرگرمیاں ضروری نہیں ہوتیں۔ روزمرہ زندگی میں چھوٹی اور خوشگوار تبدیلیاں بھی دماغ کی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

بی بی سی کے مابق ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اس کے صحت مند زندگی کے سال کم ہوتے جاتے ہیں اور ذہنی صحت متاثر ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دماغ کو فعال رکھا جائے تو ’کگنیٹو ریزرو‘ یعنی ذہنی ذخیرہ مضبوط ہوتا ہے جو دماغ کو عمر رسیدگی کے اثرات سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

ماہر نفسیات ایلن گو کے مطابق چھوٹی چھوٹی ذہنی، جسمانی اور سماجی سرگرمیاں دماغی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتی ہیں اور اس کے لیے زندگی میں بڑی تبدیلیاں ضروری نہیں ہوتیں۔

جگہوں کی سمت سمجھنے کی مشق

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کا ایک اہم حصہ، جسے ہپوکیمپس کہا جاتا ہے، سمت اور راستہ یاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور یہی حصہ الزائمر جیسے مرض میں سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق وہ افراد جو اپنے شہر میں راستے یاد رکھنے یا بغیر جی پی ایس کے سفر کرنے کی عادت رکھتے ہیں ان کا دماغ زیادہ مضبوط رہتا ہے۔

اسی طرح کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ٹیکسی اور ایمبولینس ڈرائیورز میں یادداشت کی بیماری کی شرح نسبتاً کم ہوتی ہے کیونکہ وہ مسلسل ذہنی نقشہ استعمال کرتے ہیں۔

سماجی طور پر متحرک رہنا

ماہرین کے مطابق دوسروں کے ساتھ میل جول اور گفتگو دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد میں ذہنی کمزوری اور ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ گفتگو، بحث اور خیالات کے تبادلے سے دماغ کے مختلف حصے متحرک رہتے ہیں جبکہ تنہائی اور ذہنی دباؤ دماغی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سماجی تعلقات نہ صرف ذہنی دباؤ کم کرتے ہیں بلکہ یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

عمر بھر سیکھنے کا عمل جاری رکھنا

ماہرین کے مطابق مسلسل سیکھنے کی عادت دماغ کو مضبوط رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ نئی چیزیں سیکھنے سے دماغ میں نئے نیورونز بنتے ہیں اور پرانے نیورونز مضبوط ہوتے ہیں جسے دماغ کی لچک یا نیوروپلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ زیادہ تعلیم حاصل کرنے اور زندگی بھر سیکھنے والے افراد میں یادداشت کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ باغبانی، کتابیں پڑھنا، نئے مشاغل اپنانا یا دوستوں کے ساتھ علمی گفتگو کرنا دماغی صحت کو بہتر بنانے کے آسان طریقے ہیں۔

مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دماغ کو فعال رکھنے والی ہر سرگرمی عمر رسیدگی کے اثرات کو سست کر سکتی ہے اور زندگی کو نہ صرف صحت مند بلکہ زیادہ خوشگوار بھی بنا سکتی ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

صنعتی صارفین پر بھاری فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو نئی "دو حصوں پر

Read More

برآمدات میں مئی کے دوران اضافہ، درآمدات اور تجارتی خسارے میں کمی ریکارڈ

ملکی برآمدات میں مئی 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر اضافہ جبکہ درآمدات اور تجارتی خسارے

Read More

TECHNOLOGY

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

مکہ مکرمہ کی مایہ ناز اور تاریخی درسگاہ ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ کے کلچرل فرنٹ نے

Read More

گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان 30 ارب ڈالر کا تاریخی اے آئی معاہدہ

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے دوران گوگل نے ایلون مسک کی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.