چترال سے ہتھیائے گئے نایاب قرآنی نسخے کی برطانیہ میں نیلامی

1895ء میں انگریز فوج کی جانب سے بالائی چترال میں قبضے میں لیے گئے قرآن کے نایاب نسخے کی حال ہی میں آکسفورڈ میں نیلامی کی گئی ہے۔

نسخے کے ساتھ موجود ہاتھ سے لکھے گئے ایک نوٹ کے مطابق یہ 19ویں صدی کے اوائل یا 18ویں صدی کے اواخر کا ایک نایاب قرآنِ پاک ہے جو 1895 میں اپر چترال کے گاؤں سونوغر میں برطانوی افسر لیفٹیننٹ ایچ بی بیتھون کو ملا تھا۔

برطانوی فوج کا یہ دستہ چترال پر لشکر کشی کے دوران کرنل کیلی کی قیادت میں گلگت سے چترال قلعے کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا۔ اس نوٹ کے مطابق تلاشی کے دوران یہ نسخہ برطانوی افسر کو گاؤں کے مقامی سردار کے گھر سے ملا۔

اس نایاب نسخے کے ہر صفحے پر عربی رسم الخط کی 18 سطور درج ہیں، جبکہ اوقاف سونے کی سیاہی سے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خوبصورت خطاطی، نفیس روشن کاری والے صفحات اور چرمی جلد بندی اس کے حسن کو مزید نمایاں بناتی ہے۔

اس واقعے کے قریباً 130 سال بعد یہ قرآن اس سال اچانک برطانیہ کے معروف نیلامی ادارے میلمس کی ملکیت میں منظر عام پر آیا جب چند ویب سائٹس پر اسے نیلامی کے لیے پیش کیا گیا اور فروری میں کامیاب بولی کے ذریعے فروخت کر دیا گیا۔ تاہم لیفٹیننٹ بیتھون کے ہاتھ لگنے کے بعد اتنا عرصہ یہ نسخہ کس کس کے پاس رہا اور بالآخر نیلامی تک کیسے پہنچا، اس بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔

نوآبادیاتی دور میں مقامی نوادرات کی اُن کے اصل وطن سے باہر منتقلی اور اس سے جڑے اخلاقی اور قانونی سوالات ہمیشہ سے زیرِ بحث رہے ہیں۔ چترال سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان ہدایت الرحمان کے مطابق صدیوں پرانے اس نایاب قرآنی نسخے پر ایک فوجی افسر کا قبضہ اور پھر سو سال سے بھی زائد عرصے میں اس کی نیلامی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خود ان کے اپنے دریافت کردہ ایک تاریخی مخطوطے کو چترال سے برطانیہ منتقل کیا گیا اور ایک بار برطانیہ کی ایک لائبریری میں انہوں نے اس نسخے تک رسائی کی اجازت چاہی تو ان سے بھاری فیس کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے نوادرات پر اصل مالک کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا بنیادی اخلاقی اور قانونی تقاضا ہے۔

حال ہی میں برطانوی بادشاہ چارلس سوئم کے دورہ امریکا کے دوران نیویارک کے میئر زوہران ممدانی سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں برطانوی بادشاہ کے ساتھ نجی گفتگو کا موقع ملا تو وہ انہیں کیا کہیں گے۔ زوہران ممدانی کا کہنا تھا کہ میں انہیں کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی ترغیب دوں گا۔

واضح رہے کہ مشہورِ زمانہ کوہِ نور ہیرے کا شمار برصغیر کے اُن بیش بہا نوادرات میں ہوتا ہے جو برطانوی نوآبادیات کے دور میں یہاں سے باہر منتقل کیے گئے۔ اس ہیرے کو انگریزوں نے 1849ء میں ایک متنازع معاہدے کے تحت پنجاب کے اس وقت کے 11 سالہ حکمران دلیپ سنگھ سے حاصل کیا تھا۔

چترال سے تعلق رکھنے والا یہ قرآنی نسخہ اس خطے سے باہر منتقل ہونے والا واحد مذہب متن نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ صدی کے تیسرے عشرے میں گلگت سے ملنے والے بدھ مت کے نایاب ترین قدیم مخطوطے بھی سری نگر اور بعد میں دہلی منتقل کردیے گئے تھے۔ یہ مخطوطے ‘گلگت مینو اسکرپٹس’ کے نام سے مشہور ہیں اور ابھی تک بھارت کے قبضے میں ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی، وزیر بحری امور کا اظہار اطمینان

وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کراچی پورٹ کی کارکردگی پر اطمینان کا

Read More

کراچی کے عوام کی محرومیوں کا دور ختم، اب تعمیر و ترقی کے زمانے کا آغاز ہوگا، خالد مقبول صدیقی

شہر قائد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد پر ذمہ داران کا

Read More

TECHNOLOGY

جعلسازی کی نئی مہم، 30 ہزار اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف!

تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویتنام سے آپریٹ کی جانے والی

Read More

گوگل کروم میں سکیورٹی مسائل کو ختم کرنے کیلئے نئی اپ ڈیٹ جاری

گوگل نے کروم ویب براؤزر میں موجود متعدد سکیورٹی مسائل کو ختم کرنے کے لیے نئی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.