بھاری ای چالان کے باوجود سنگین ٹریفک خلاف ورزیوں کو نہ روکا جاسکا۔ٹریفک پولیس کی سفارش پر حکومت سندھ نے گزشتہ سال بھاری جرمانے عائد کیے ، ان میں ون وے کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل پر 25 ہزار اور کار پر 30 ہزار روپے جرمانہ مقرر کیا گیا، اسی طرح موٹر سائیکل کی ون ویلنگ پر 25 ہزار روپے ، بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر موٹر سائیکل کے لیے 25 ہزار روپے اور کار ڈرائیور پر 30 ہزار روپے کا جرمانہ لاگو کیا گیا، اسی تناسب سے کم عمری میں موٹر سائیکل چلانے پر 25 ہزار روپے اور کار چلانے پر 30 ہزار روپے جرمانہ نافذ کیا گیا لیکن اس کے باوجود شہر میں سنگین نوعیت کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
صوبائی اسمبلی سے جرمانوں کی شرح بڑھانے کی منظوری حاصل کرنے کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے گزشتہ سال یکم اکتوبر کو جرمانوں کی شرح میں بھاری اضافہ کیا، جبکہ اکتوبر کے آخر میں ای چالان متعارف کرایا گیا، جس کے تحت ایک مہینے کے اندر ایک لاکھ لوگوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر ان کے رہائشی پتے پر ای ٹکٹ ارسال کیے گئے ۔ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹریفک کا نظام بہت عرصے سے خراب ہے ، اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، جبکہ ای چالان کا نظام ابھی نیا ہے اور اس کے عملدرآمد کے دوران بعض مسائل سامنے آئے ہیں جنہیں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مثال کے طور پر ای چالان سسٹم کے تحت جاری کیے گئے ہزاروں کی تعداد میں ای ٹکٹ اصل مالکان تک پہنچ ہی نہیں سکے۔
ڈی آئی جی ٹریفک سید پیر محمد شاہ کی جانب سے حال ہی میں آئی جی سندھ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 19 ہزار سے زائد ای چالان اس لیے اصل مالکان تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ اصل مالکان نے وہ گاڑیاں بیچ دی تھیں اور خریدنے والے لوگوں نے گاڑیاں اپنے نام نہیں کروائی ہیں۔ اسی طرح دو ہزار سے زائد گاڑیوں پر نمبر پلیٹ ہی غلط لگے ہوئے تھے ، یہی وجہ ہے کہ ٹریفک پولیس نے شہر میں ایسی گاڑیوں کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے ۔کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق مذکورہ مہم کے دوران دو دن میں 134 گاڑیوں کے خلاف نمبر پلیٹ نہ ہونے پر کارروائی کی گئی ہے جبکہ 185 لوگوں کے خلاف اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ چھپا کر چلنے پر کارروائی ہوئی ہے ۔پولیس کو امید ہے کہ بیشتر لوگوں نے موٹر سائیکلیں اپنے نام منتقل کرانا شروع کرادیا ہے ، جس سے صورتحال میں کچھ بہتری آئے گی




































