انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہیں کرتا، بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ’ایکسِیوس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی بمباری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور ایران کو اس کے نتائج مزید بھگتنا ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے، لیکن امریکا کسی صورت جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک نئی تجویز پیش کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام سے متعلق کچھ شرائط شامل تھیں۔ اس منصوبے میں تہران نے آبنائے ہرمز میں اپنی سخت پالیسی میں نرمی اور واشنگٹن کی جانب سے بحری پابندیوں میں کمی کی بات کی تھی، تاہم امریکا نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
اسی دوران امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایئرکرافٹ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ جلد مشرقِ وسطیٰ سے واپس روانہ ہو جائے گا۔ یہ طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 10 ماہ کی تعیناتی کے بعد گھر واپسی کرے گا۔ اس فیصلے کو خطے میں جاری کشیدگی اور امن مذاکرات کی سست روی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے
دوسری جانب ایران کے وزیرِ تیل محسن پاک نژاد نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی اور تقسیم کا نظام مستحکم ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے الزام لگایا کہ امریکا اس ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو اندرونی طور پر تقسیم کرنا چاہتا ہے، تاہم ان کے مطابق قومی اتحاد ہی اس کا جواب ہے۔
ماہرین کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





































