امریکا ایران کشیدگی اور جنگ بندی مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ مسلسل جاری ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کی بحالی فی الحال مشکل دکھائی دیتی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کے جون کے سودے 1.91 ڈالر اضافے کے بعد 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ جولائی کے کنٹریکٹ میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 107.51 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کھلنے کے امکانات کم ہیں، جس کے باعث عالمی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے خلیج میں اپنی کشتیوں کے علاوہ دیگر جہازوں کی نقل و حرکت محدود کیے جانے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں سے ممکنہ طویل بندش کے اثرات کم کرنے کے حوالے سے مشاورت بھی کی، جس کے بعد مارکیٹ میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب اوپیک پلس گروپ کے آئندہ اجلاس میں تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر غور متوقع ہے، تاہم ماہرین کے مطابق جاری جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کو جنگ کے بعد معمول کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈی پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔





































