جذباتی ذہانت میں مہارت کے لیے آسان تجاویز، 10 سیکنڈ کا قاعدہ اہم ترین

اعلیٰ جذباتی ذہانت کا مالک ہونا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اعلیٰ ذہانت ( آئی کیو) کا ہونا۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جو دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہمیں طویل عرصے سے یہ بتایا گیا ہے کہ آئی کیو ہی کامیابی کا بہترین اشارہ ہے۔

لیکن “ٹائمز آف انڈیا” کی رپورٹ کے مطابق کچھ ایسے ذہین لوگ بھی ہیں جو دوسروں کو پڑھنے میں مہارت نہیں رکھتے۔ جذباتی ذہانت کا مطلب رپورٹ یا مطالعہ جمع کرانے کی آخری تاریخ قریب آنے پر خود کو پرسکون رکھنے کی صلاحیت، کام کے ساتھی کے ساتھ ہمدردی کرنے کی صلاحیت اور اپنی جذباتی زندگی کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کی مہارت ہے۔

مصنوعی ذہانت کے غلبے والی دنیا میں انسان کی انسانیت ۔ یعنی اس کی جذباتی گہرائی ۔ ہی اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ اس غیر معمولی صلاحیت کو نکھارنے کے لیے کچھ سادہ عادات درج ذیل ہیں۔

1- 10 سیکنڈ کا قاعدہ

جب کسی شخص کو غصہ آنے لگے تو اس کے اعصاب کا کنٹرول سینٹر (ایمیگڈالا) اس کی منطقی سوچ پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک سخت ای میل بھیجنے یا گھر والوں کو غصے میں جواب دینے سے پہلے، غصے والے شخص کو دس تک گنتی گننی چاہیے۔ یہ مشورہ بظاہر چھوٹے بچے کے لیے مناسب لگ رہا ہوگا لیکن درحقیقت یہ خود پر قابو پانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ یہ دماغ کے کنٹرول سینٹر (پری فرنٹیل کورٹیکس) کو پرسکون ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

2- جذبے کو نام دینا

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک مشہور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ محض جذبے کا نام لینے سے اس کی شدت میں 30 فیصد کمی آ جاتی ہے۔ اسے جذباتی تفصیل کہا جاتا ہے۔ جب کوئی اپنے احساس کو نام دے دیتا ہے تو وہ ایک خوفناک عفریت نہیں رہتا بلکہ ایک قابو پانے کے قابل کام بن جاتا ہے۔

3- سننے کے فن میں مہارت

فعال طریقے سے سننے کا مطلب صرف اس وقت تک خاموش رہنا نہیں جب تک بولنے کی باری نہ آئے بلکہ اس کا مطلب دوسرے شخص کو یہ محسوس کرانا ہے کہ وہ کمرے میں موجود واحد شخص ہے۔ یہ قدم فون کو الٹا رکھ کر، غور سے سن کر اور دوسروں کی باتوں کا خلاصہ بیان کر کے اٹھایا جا سکتا ہے تاکہ انہیں محسوس ہو کہ انہیں سنا گیا ہے۔ اس سے ان کا دفاعی رویہ ختم ہو جاتا ہے اور ایک حقیقی رشتہ شروع ہوتا ہے۔

4- اشتعال والی چیزوں کی نشاندہی

ہر انسان کے کچھ کمزور پوائنٹس ہوتے ہیں جو اکثر ماضی کے تجربات سے جڑے ہوتے ہیں۔ فون پر نوٹس ایپ یا کاغذ کی ڈائری کا استعمال یہ ریکارڈ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے کہ وہ کب مشتعل محسوس کرتا ہے۔

5- تکلیف دہ سچائی کی تلاش

جذباتی طور پر ہر انسان کمزور پہلو رکھتا ہے۔ ہر چند ماہ بعد کوئی شخص کسی ایسے دوست یا ساتھی سے پوچھ سکتا ہے جس پر وہ بھروسہ کرتا ہو کہ “وہ دباؤ میں کیسا سلوک کرتا ہے؟” یہ سننا شاید تکلیف دہ ہو کہ وہ “نظر انداز کرنے والا” یا “غیر فعال جارحانہ” ہو جاتا ہے۔ لیکن یہی مشاہدات ایسے شخص کی ترقی کی بنیاد ہیں۔

6- کرداروں کی تبدیلی کا نظریہ

جب کسی شخص کو دوسرے کی طرف سے غصے کا سامنا کرنا پڑے تو اسے اس کی چھپی ہوئی کہانی کا تصور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس کا بچہ بیمار ہو، یا وہ لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں فکر مند ہو۔ یہاں مقصد ہار ماننا نہیں ہے بلکہ مشکل حالات سے نمٹنے کی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے تنازع کو بڑھنے سے پہلے پرسکون کرنا ہے۔

7- ناکامی کی نئی تعریف

اپنے آپ سے یہ کہنے کے بجائے کہ میں ناکام ہو گیا، کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک اہم سبق تھا۔ یہ سوچ بدلنے سے نتیجہ تو نہیں بدلے گا لیکن اگلی مرتبہ دوبارہ اٹھنے کی ہمت ضرور پیدا ہوگی۔

8- خوشی کے چھوٹے چھوٹے معمولات

جذباتی ذہانت کے لیے کافی توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص تھکا ہوا ہو تو وہ ہمدرد نہیں ہو سکتا۔ چاہے وہ پانچ منٹ کے لیے شکر گزاری کی فہرست بنانا ہو یا ہیڈ فون کے بغیر چہل قدمی۔ یہ چھوٹے معمولات آکسیٹوسن کی سطح کو بڑھاتے ہیں اور مشکل حالات میں برداشت کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔

9- نا کہنے کی اہمیت

دوسروں کو خوش کرنا درحقیقت کم جذباتی ذہانت کی علامت ہے۔ یہ اپنے جذبات کی قربانی دے کر دوسروں کے جذبات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ صحت مند حدود کا تعین وقت اور توانائی کے احترام کا عمل ہے۔ ایک پختہ اور نرم لفظ نا آپ کو اس نفرت سے بچاتا ہے جو بالآخر رشتوں میں زہر گھول دیتی ہے۔

10- اندرونی تنقید سے چھٹکارا

کچھ لوگ اپنے آپ سے اس طرح بات کرتے ہیں جس طرح وہ کبھی کسی دوست سے نہیں کریں گے۔ اپنے آپ سے ہمدردی کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ غلطی کے بعد اپنے ساتھ نرمی برتنا اپنے آپ کو ملامت کرنے کے مقابلے میں اصلاح کے لیے زیادہ تحریک دیتا ہے۔

Share On Social Media

KARACHI

ایم کیو ایم پاکستان نے کارکنان کو بلدیاتی انتخابات کی تیاری تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی

خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرکزی کمیٹی کا اہم

Read More

یہ کیسا انصاف ہے؟ 170 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 والا حکومت میں ہے، خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیرتعلیم ڈاکٹر خالد محمود

Read More

TECHNOLOGY

اسمارٹ فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہونے کی 4 بڑی وجوہات

اسمارٹ فون کی بیٹری کا جلد ختم ہونا صارفین کے لیے ایک عام مگر سنگین

Read More

مقبول اسمارٹ فونز کی فہرست جاری، نئی ڈیوائسز نے دھوم مچا دی

گزشتہ ہفتے کے مقبول ترین فہرست میں سام سنگ گلیکسی ایس 26 الٹرا فائیو جی

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.