سی بی ایس نیوز کے مطابق دو ذرائع نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے قریب فائرنگ کے واقعے میں گرفتار مشتبہ شخص نے حراست کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
اس سے قبل امریکی وفاقی پراسیکیوٹرز نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن میں ہونے والے اس واقعے میں گرفتار مشتبہ شخص پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
وفاقی پراسیکیوٹر جینین پیرو کے مطابق ملزم پر آتشیں اسلحہ کے ذریعے پرتشدد جرم کے دوران کارروائی کرنے اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے بتایا کہ مشتبہ شخص کے پاس پستول اور چھریاں موجود تھیں اور ابتدائی اندازوں کے مطابق وہ اکیلا ہی کارروائی کر رہا تھا۔
ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ مسلح شخص نے خفیہ سروس کے ایک اہلکار پر فائرنگ کی، تاہم وہ اہلکار بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔
واقعے کے تقریباً دو گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اہلکار کو کوئی سنگین نقصان نہیں پہنچا اور وہ حالتِ تسلی بخش میں ہے۔مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جسے ٹرمپ نے ذہنی طور پر غیر متوازن شخص قرار دیا۔
کیلیفورنیا حکام کے مطابق ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔تمام وفاقی اہلکار، جن میں صدر ٹرمپ بھی شامل ہیں، محفوظ رہے۔ خفیہ سروس کی حفاظت میں موجود تمام افراد کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا گیا۔


































