یورپی ممالک میں سرکاری سطح پر واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی کی تیاری، وجہ کیا ہے؟

یورپ میں سرکاری حکام کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کو محدود یا مرحلہ وار ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجوہات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق پالیسیوں اور سیکیورٹی خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق میٹا پر یورپی یونین کی جانب سے عارضی پابندی کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ کمپنی پر الزام ہے کہ اس کی پالیسیز ممکنہ طور پر دیگر اے آئی کمپنیوں کو واٹس ایپ پر خدمات فراہم کرنے سے روکتی ہیں۔

یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ اگر یہ پالیسیز تبدیل نہ کی گئیں تو مارکیٹ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے عارضی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

جرمنی، فرانس، پولینڈ، نیدرلینڈز، لکسمبرگ اور بیلجیئم سمیت کئی ممالک نے حکومتی سطح پر اپنی مخصوص میسجنگ سروسز متعارف کرانی شروع کر دی ہیں تاکہ سرکاری مواصلات کے لیے عام اینکرپٹڈ ایپس پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ واٹس ایپ اور دیگر ایپس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتی ہیں لیکن یہ بڑے پیمانے پر سرکاری آپریشنز کے لیے موزوں نہیں ہیں جہاں رسائی پر سخت کنٹرول اور نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق نئی ترجیح ان پلیٹ فارمز کو دی جا رہی ہے جن میں صارفین کی اجازتیں واضح طور پر کنٹرول کی جا سکیں، گروپس تک رسائی محدود ہو اور میٹا ڈیٹا جیسے پیغامات کے اوقات اور کال لاگز کی نگرانی ممکن ہو۔

یورپی حکام نے غیر ملکی مداخلت کے خطرات اور حساس سیاسی مواصلات کی سیکیورٹی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ممالک واٹس ایپ اور سگنل جیسی ایپس کو سرکاری استعمال سے مرحلہ وار ختم کر کے ریاستی کنٹرول والے پلیٹ فارمز متعارف کروا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایک مضبوط سکیورٹی معیار ہے لیکن حکومتیں اب ایسے نظام چاہتی ہیں جو ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق ہوں نہ کہ صرف عام صارفین کے لیے بنائی گئی ایپس۔

دوسری جانب ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریاستی کنٹرول والی ایپس کی طرف منتقلی سے شفافیت میں کمی آ سکتی ہے اور حساس فیصلوں کی عوامی نگرانی کمزور ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن بھی سال کے آخر تک اپنا اندرونی میسجنگ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے یہ تبدیلی مزید تیز ہو سکتی ہے۔

یہ اقدام اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انحصار کم کرنا اور حساس مواصلاتی نظام پر یورپی کنٹرول مضبوط بنانا ہے۔

بیلجیئم سمیت بعض ممالک پہلے ہی اپنے سرکاری میسجنگ سسٹم متعارف کر چکے ہیں جن میں اعلیٰ حکام کو مخصوص ایپس استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ تبدیلی سائبر سکیورٹی خدشات، ہیکنگ کے خطرات اور فشنگ حملوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے جبکہ یورپی ممالک اسے ’ڈیجیٹل خودمختاری‘ کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

Share On Social Media

KARACHI

کراچی میں لین کی خلاف ورزی پر ای چالان جاری کرنے کا اعلان

کراچی ٹریفک پولیس نے اعلان کیا ہے کہ یکم جون سے شارع فیصل پر لین

Read More

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں کئی گھنٹوں سے بجلی بند، شہری اذیت میں مبتلا

شدید گرمی کے موسم میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

Read More

TECHNOLOGY

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ستمبر 2026 میں پیش کیے جانے کا امکان، قیمت کتنی ہوگی؟

ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کے حوالے

Read More

واٹس ایپ، انسٹا اور فیس بک صارفین پیسے دینے کیلئے ہوجائیں تیار!

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے ذیلی پلیٹ فارمز واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین سے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.