پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تنازع میں اہم ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک عارضی جنگ بندی معاہدے کو کامیاب بنایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام نے اس معاہدے میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آصف منیر کا براہ راست ذکر کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔
الجزیرہ، بی بی سی اور دی ڈپلومیٹ سمیت متعدد عالمی میڈیا آؤٹ لیٹس نے اسے پاکستان کی سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ملکوں کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ بن کر تناؤ کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس سفارتی فتح کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بیرون ملک پاکستانی بھی سبز پاسپورٹ ہولڈر ہونے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔
مختلف ممالک میں موجود پاکستانی شہری سبز پاسپورٹ کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کررہے ہیں۔
ایک صارف نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ایک تہذیب کو بچانے پر پاکستان ہونے پر فخر محسوس ہورہا ہے۔
ایک اور صارف نے امریکا میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز پر ویڈیو بنائی اور سبز پاسپورٹ رکھنے پر فخر ظاہر کیا۔
ایک اور صارف نے اس کیپشن کے ساتھ ریل بنائی کہ بھارتیو اگر آپ پاکستان سے ایک چیز چرائیں تو وہ کیا ہوگی، صارف نے ہاتھ میں سبز پاسپورٹ دکھا کہ ظاہر کیا کہ بھارتی پاکستانی پاسپورٹ چرانا چاہیں گے۔
بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی سبز پاسپورٹ رکھنے پر فخر محسوس کررہے ہیں، اور مشرق وسطیٰ تنازع میں پاکستانی قیادت کی بے مثال سفارتکاری پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔



































