کراچی کی تباہ حالی پر اہم اجلاس، صدر زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو محسن نقوی کی مثال کیوں دی؟

فروری 2026 کے آخری ہفتے میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کراچی میں سندھ کے اعلیٰ حکام، بشمول وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں صدر زرداری کراچی اور سندھ کے دیگر حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر شدید برہم نظر آئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر زرداری نے کراچی کی سڑکوں کی ابتر صورتِ حال اور زیرِ التوا منصوبوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ اور میئر سے کہا: ’اگر آپ سے سڑکیں نہیں بن رہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔‘

پیپلز پارٹی کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا ہے کہ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے اس سے پہلے پنجاب اور اب موجودہ دور میں انڈر پاسز اور سڑکیں 60 دنوں میں مکمل کیں۔ صدر نے سندھ حکومت کو 3 ماہ کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کی سڑکوں کو اسلام آباد جیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور عوامی شکایات میں کمی ہونی چاہی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس اسے پیپلز پارٹی کی اندرونی سیاست اور بلاول بھٹو زرداری کے مستقبل سے جوڑتے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ بلاول جب وفاق میں وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے آئیں تو ان کے پاس سندھ کی بہترین کارکردگی کی مثالیں موجود ہوں۔ سندھ میں کرپشن اور تاخیر کے الزامات پیپلز پارٹی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے، اس لیے یہ برہمی ایک طرح سے ’ڈیمیج کنٹرول‘ کی کوشش ہے۔

سینیئر صحافی رفعت سعید کے مطابق زرداری صاحب کی برہمی کو ہلکا نہ لیا جائے۔ اس برہمی کے بعد جو منصوبے فنڈز کی کمی کا شکار تھے، ان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر رقم جاری کی جا سکتی ہے۔ کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ایک خاص سیل قائم کیا جا سکتا ہے جو براہِ راست بلاول ہاؤس کو رپورٹ دے گا۔

سینیئر صحافی حمید سومرو کا کہنا ہے کہ ایک ہی سیاسی اتحاد (وفاقی حکومت) کا حصہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کے سربراہ کا اپنی ہی صوبائی حکومت کو دوسری سیاسی شخصیت محسن نقوی کی مثال دینا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ کراچی میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور سیوریج کے مسائل طویل عرصے سے حل طلب ہیں، جس پر پیپلز پارٹی کو سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اسے سندھ کی بیوروکریسی اور انتظامیہ کے لیے ایک ویک اپ کال قرار دیا جا رہا ہے کہ اب صدر خود ان معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اگرچہ یہ خبریں ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں، لیکن اس کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے۔ اس سے قبل یاسین آباد انڈر پاس کو مکمل کرنے کے لیے 2 بار وقت دیا گیا، لیکن دونوں بار وہ مکمل نہ ہو سکا، اور اب بھی اس کا کام جاری ہے۔

بات کی جائے یونیورسٹی روڈ کی یا جہانگیر روڈ کی، یہ ایک مستقل اذیت ہے جس سے اہلِ کراچی روزانہ دوچار رہتے ہیں۔ کراچی میں ایسے کئی منصوبے ہیں جو سالہا سال چلتے رہتے ہیں اور شہری اب اس کے عادی ہو چکے ہیں۔


وقاص خان

Share On Social Media

KARACHI

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں کئی گھنٹوں سے بجلی بند، شہری اذیت میں مبتلا

شدید گرمی کے موسم میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

Read More

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد گڈزٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں کمی کا اعلان

پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وفاقی حکومت کے ڈیزل اور

Read More

TECHNOLOGY

واٹس ایپ، انسٹا اور فیس بک صارفین پیسے دینے کیلئے ہوجائیں تیار!

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے ذیلی پلیٹ فارمز واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین سے

Read More

مصنوعی ذہانت کی بڑھتی من مانی، چیٹ بوٹس کے ہدایات سے انحراف کے سینکڑوں واقعات

حالیہ تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے نظام میں بڑھتی ہوئی کمزوریوں کا انکشاف ہوا ہے

Read More

TRENDING VIDEOS

LATEST

ENTERTAINMENT

ENTERTAINMENT

roznama jazba

Roznama Jazba is a news updated with multiple news

& informative blogs holding valueablle material for all class of society.